اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 25
الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصّہ اوّل 25 جلسہ سالانہ برطانیہ 2003 مستورات سے خطاب ہیں۔حضرت ام المومنین ہمیشہ فرماتی تھیں کہ میرے بچے جھوٹ نہیں بولتے اور یہی اعتبار تھا جو ہم کو جھوٹ سے بچا تا بلکہ زیادہ منتظر کرتا تھا۔کہتی ہیں کہ مجھے آپ کا سختی کرنا کبھی یاد نہیں۔پھر بھی آپ کا ایک خاص رعب تھا اور ہم بہ نسبت آپ کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دنیا کے عام قاعدہ کے خلاف بہت زیادہ بے تکلف تھے۔یعنی ماں کی نسبت حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے زیادہ بے تکلفی تھی۔فرماتی ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ حضور اقدس سے حضرت والدہ صاحبہ کی بے حد محبت و قدر کرنے کی وجہ سے آپ کی محبت میرے دل میں اور بھی بڑھ جایا کرتی تھی۔بچوں کی تربیت کے متعلق ایک اصول آپ یہ بھی بیان فرمایا کرتی تھیں کہ پہلے بچے کی تربیت پر اپنا پورا زور لگاؤ ، دوسرے ان کا نمونہ دیکھ کر خود ہی ٹھیک ہو جائیں گے۔تو یہ کیسے زریں اصول ہیں جن پر عمل کرنے سے واقعی بچوں کی کایا پلٹ سکتی ہے۔چوہدری غلام قادر صاحب نمبردار اوکاڑہ 1909ء میں دہلی میں سیکنڈ کلرک تھے اور حضرت میر قاسم علی صاحب مرحوم بھی نائب ناظر تھے اور یہ دونوں صاحب دریا گنج کے مکان میں اکٹھے رہا کرتے تھے۔یہیں خاندان مسیح موعود علیہ السلام ان ایام میں قیام پذیر ہوا تو حضرت میر صاحب کی زبانی یہ امر معلوم ہوا کہ حضرت ام المومنین اپنے بچوں، بہو، بیٹیوں کی عبادات کے متعلق پوری توجہ سے نگرانی فرما تیں اور نماز تہجد کا خاص اہتمام فرماتی ہیں اور ہمیشہ خاندان کے افراد کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نقش قدم پر چلنے کی تاکید فرماتی رہتی تھیں۔(سیرت ام المومنین نصرت جہاں بیگم صاحبہ صفحہ 393-396) تو اب یہ پوری جماعت جو ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا خاندان ہی ہے۔ہر ماں کا فرض ہے کہ اپنے بچوں کی تربیت کرے۔پس اے احمدی ماؤں، وہ خوش نصیب ماؤں ! جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم - لبیک کہتے ہوئے اس زمانے کے امام کو پہچانا ، اس کی اطاعت کا جو آ اپنی گردنوں پر رکھا، دنیا کی مخالفت مول لی اور یہ عہد کیا کہ ہم ہمیشہ دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے اپنا اپنا جائزہ لیں اور دیکھیں کہیں ہم اس عہد سے دُور تو نہیں جا رہے۔ہمارا دین کو دنیا پر مقدم رکھنا صرف اپنی ذات تک ہی محدود ہو کر تو نہیں رہ گیا۔کیا ہم اس کو آگے بھی بڑھا رہے ہیں، کیا ہم نے اس عہد کو آگے اپنی نسلوں میں منتقل کر دیا ہے۔