اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 292 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 292

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 292 جلسہ سالانہ یو کے 2005 مستورات سے خطاب احمدی عورت اپنے لباس میں حیا کے پہلو کو مد نظر رکھتی ہے۔جبکہ مغرب میں جیسا کہ میں نے کہا یہاں معاشرے میں حیا کا تصور ہی اٹھ گیا ہے اس لئے یہاں ان قوموں میں جو لباس ہے یہ یا تو موسم کی تختی سے بچنے کے لئے پہنتے ہیں یا فیشن کے لئے۔اللہ تعالیٰ ہی ان لوگوں کو عقل دے اور خدا کا خوف ان میں پیدا ہو۔یورپی معاشرے میں پردے کی اہمیت نہیں رہی۔احمدی عورت نے اللہ کا حکم سمجھتے ہوئے پردہ کرنا ہے بہر حال ہم جب بات کرتے ہیں تو احمدی معاشرہ کی عورت کی کرتے ہیں۔لیکن اس معاشرے میں رہنے کی وجہ سے خطرہ ہے کہ کہیں اکا دُکا کوئی احمدی لڑکی ان سے متاثر نہ ہو جائے۔بہر حال میں ذکر کر رہا تھا کہ یہ خطرہ ہے کہ اس معاشرے کا اثر کہیں احمدیوں پر بھی نہ پڑ جائے۔عموماً اب تک تو اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا ہوا ہے۔شاید اکا دُکا کوئی مثال ہو اس کے علاوہ۔لیکن یہ جو فکر ہے یہ مجھے اس لئے پیدا ہو رہی ہے کہ اس کی طرف پہلا قدم ہمیں اٹھتا ہوا نظر آ رہا ہے۔کیونکہ اس معاشرے میں آتے ہی جو پردے کی اہمیت ہے وہ نہیں رہی۔وہ اہمیت پر دے کو نہیں دی جاتی جس کا اسلام ہمیں حکم دیتا ہے۔میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ احمدی عورت کو پردے کا خیال از خود رکھنا چاہیے۔خود اس کے دل میں احساس پیدا ہونا چاہئے کہ ہم نے پردہ کرنا ہے، نہ یہ کہ اسے یاد کروایا جائے۔احمدی عورت کو تو پردے کے معیار پر ایسا قائم ہونا چاہیے کہ اس کا ایک نشان نظر آئے اور یہ پردے کے معیار جو ہیں ہر جگہ ایک ہونے چاہئیں۔یہ نہیں کہ جلسہ پر یا اجلاسوں پر یا مسجد میں آئیں تو حجاب اور پردے میں ہوں، بازاروں میں پھر رہی ہوں تو بالکل اور شکل نظر آتی ہو۔احمدی عورت نے اگر پردہ کرنا ہے تو اس لئے کرنا ہے کہ خدا تعالیٰ کا حکم ہے اور معاشرے کی بدنظر سے اپنے آپ کو بچانا ہے اس لئے اپنے معیاروں کو بالکل ایک رکھیں ، دوہرے معیار نہ بنائیں۔اور یہاں کی پڑھی لکھی لڑکیاں یہاں کی پرورش پانے والی لڑکیاں ان میں ایک خوبی بہر حال ہے کہ ان میں ایک سچائی ہے، صداقت ہے ، ان کو اپنا سچائی کا معیار بہر حال قائم رکھنا چاہئے۔یہاں نو جوان نسل میں ایک خوبی ہے کہ انہیں برداشت نہیں کہ دوہرے معیار ہوں اس لئے اس معاملے میں بھی اپنے اندر یہ خوبی قائم