اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 264 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 264

الازھار لذوات الخمار‘ جلد سوم حضہ اوّل 264 جلسہ سالانہ کینیڈ 2005 مستورات سے خطاب وَالَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ۔۔۔۔الخ (التوبة :34) نازل ہوئی اس وقت ہم کسی سفر میں آنحضور کے ساتھ تھے۔اس پر بعض صحابہ نے کہا کہ یہ آیت سونا چاندی کے بارے میں اتری ہے اگر ہمیں پتہ ہو کہ کونسا مال بہتر ہے تو ہم اسے جمع کریں۔یعنی یہ سونا چاندی جب ان کو جمع کیا جاتا ہے تو بعض دفعہ ابتلاء میں ڈالنے والی چیز میں ہیں۔صحابہ نے کہا کہ کونسا مال بہتر ہے جو ہم جمع کریں۔تو یہ سن کر آپ نے فرمایا کہ سب سے افضل (مال) ذکر الہی کرنے والی زبان اور شکر کرنے والا دل اور مومنہ بیوی ہے جو اس کے دین پر اس کی مددگار ہوتی ہے۔( ترمذی کتاب تفسیر القرآن تفسیر سورة التوبه : 34) اللہ کرے کہ ہر احمدی عورت مومنہ بیوی اور مومنہ ماں بن کر دین کو دنیا پر مقدم کرنے والی ہو اور آنحضرت نے جس طرح فرمایا ہے اس لحاظ سے بہترین مال ثابت ہو۔ان عورتوں کی نظر میں دنیاوی مال کی کوئی حیثیت نہ ہو بلکہ ان کو اس بات پر فخر ہو کہ ہمیں آنحضرت نے دین کی خدمت اور اولاد کی بہترین تربیت کی وجہ سے افضل مال قرار دیا ہے، ہمیں اب دنیاوی مالوں سے کوئی غرض نہیں۔جب یہ سوچ ہوگی تو خدا تعالیٰ اپنی جناب سے اپنے وعدوں کے مطابق آپ کی ضروریات بھی پوری فرمائے گا اور ایسے ایسے راستوں سے آپ کی مدد فرمائے گا جس کا آپ سوچ بھی نہیں سکتیں۔حضرت اقدس مسیح موعو علیہ السلام عورتوں کو نصیحت کرتے ہوئے ایک جگہ وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ (الطلاق: 3-4) کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ یعنی "جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتارہے گا اس کو اللہ تعالیٰ ایسے طور سے رزق پہنچائے گا کہ جس طور سے معلوم بھی نہ ہوگا۔رزق کا خاص طور سے اس واسطے ذکر کیا کہ بہت سے لوگ حرام مال جمع کرتے ہیں۔اگر وہ خدا تعالیٰ کے حکموں پر عمل کریں اور تقویٰ سے کام لیویں تو خدا تعالیٰ خود ان کو رزق پہنچاوے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّلِحِيْنَ (الاعراف: 197) جس طرح پر ماں بچے کی متوتی ہوتی ہے اسی طرح پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں صالحین کا متکفل ہوتا ہوں۔اللہ تعالیٰ اس کے دشمنوں کو ذلیل کرتا ہے اور اس کے مال میں طرح طرح کی برکتیں ڈال دیتا ہے۔انسان بعض گناہ عمداً بھی کرتا