اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 257 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 257

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 257 خطبه جمعه فرمودہ 24 جون 2005(اقتباس) اور نمونہ بننے کی کوشش کی۔آج آپ میں سے اکثریت بھی جو یہاں بیٹھی ہوئی ہے یا کم از کم کافی تعداد میں یہاں لوگ ایسے ہیں جو ان صحابہ کی اولاد میں سے ہیں جنہوں نے بیعت کے بعد نمونہ بننے کی کوشش کی اور بنے۔آپ بھی اگر اخلاص کا تعلق رکھتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں داخل ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو یہ نیکیاں اختیار کریں۔آج عہد کریں کہ ہم نے نیکی کے نمونے قائم کرنے ہیں۔اپنی بیویوں کے قصور معاف کرنے ہیں۔اور جولڑ کی والے ہیں زیادتی کرنے والے، وہ عہد کریں کہ لڑکوں کے قصور معاف کرنے ہیں۔تو ان جھگڑوں کی وجہ سے جو مختلف خاندانوں میں، معاشرے میں جو تلخیاں ہیں وہ دور ہوسکتی ہیں۔اگر ایسی چیز میں ختم کر دیں اگر ان عائلی جھگڑوں میں ، میاں بیوی کے جھگڑوں میں علیحدگی تک بھی نوبت آ گئی ہے تو ابھی سے دعا کرتے ہوئے ، اس نیک ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دعاؤں پر زور دیتے ہوئے ، ان پھٹے دلوں کو جوڑنے کی کوشش کریں۔اور اسی طرح بعض اور وجوہ کی وجہ سے معاشرے میں تلخیاں پیدا ہوتی ہیں۔جھوٹی اناؤں کی وجہ سے جو نفرتیں معاشرے میں پنپ رہی ہیں یا پیدا ہو رہی ہیں ان کو دور کریں۔ایک دوسرے کی غلطیوں اور زیادتیوں اور کوتاہیوں سے پردہ پوشی کو اختیار کریں۔ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے ان کی برائیاں مشہور کرنے کی بجائے پردہ پوشی کا راستہ اختیار کریں۔ہر ایک کو اپنی برائیوں پر نظر رکھنی چاہئے۔اللہ کا خوف کرنا چاہئے۔ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے وہ اس پر ظلم نہیں کرتا اور نہ ہی اسے یکا و تنہا چھوڑتا ہے۔جو شخص اپنے بھائی کی حاجت روی میں لگا رہتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کی حاجات پوری کرتا جاتا ہے۔اور جس نے کسی مسلمان کی کوئی تکلیف دور کی اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کے مصائب میں سے ایک مصیبت اس سے کم کر دے گا۔اور جو کسی مسلمان کی ستاری کرتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس کی ستاری فرمائے گا۔(سنن ابی داؤد کتاب الأدب باب المواخاة) آپس میں ایسی محبت پیدا کریں کہ دوسرے کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھیں پس اپنے دل میں ہر وقت یہ خیال رکھیں کہ اللہ تعالیٰ جو علیم بھی ہے اور خبیر بھی ہے۔اس کو سب علم