اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 20
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حضہ اوّل 20 جلسہ سالانہ برطانیہ 2003 مستورات سے خطاب ہو جاتا ہے۔اگر یہ احساس کمتری لڑکی میں پیدا ہو جائے تو پھر سرال میں جا کر اپنی زندگی اجیرن کرنے کے علاوہ بچوں کی تربیت پر بھی بعض اوقات اثر انداز ہوتا ہے۔آگے اس سے نسل چلنی ہے۔یہ احساس کمتری اس کی اولاد پر بھی اثر انداز ہوگا۔اور یہ یادرکھیں کہ احمدی ماں کا بچہ صرف اس کا بچہ نہیں بلکہ جماعت کا بچہ ہے اور صرف جماعت کا بچہ ہی نہیں بلکہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا بچہ بھی ہے۔جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو، اعلیٰ اخلاق کو دنیا کے سامنے پیش کر کے ان کے دل جیتنے ہیں ، ان کو اسلام کے جھنڈے تلے جمع کرنا ہے۔پس ذراسی غلطی سے نسل کو بر باد نہ کریں۔ایک حدیث ہے۔حضرت نعمان بن بشیر بیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے غلام ہبہ کیا اور چاہا کہ اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت ہو۔انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس خواہش کا اظہار کیا۔آپ نے فرمایا: کیا تمہارا کوئی اور بھی بیٹا ہے؟۔انہوں نے کہا : ہاں۔فرمایا : کیا تو نے اسے بھی غلام ہبہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ایسے ظالمانہ عطیہ پر گواہ نہ بنوں گا۔(سنن ابو داؤد کتاب البیوع) پھر ایک اور چھوٹی سی عادت ہے۔کھانے کے آداب ہیں۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی ذکر کیا ہے کہ بچے کھانا کھاتے ہوئے اتنا گند کر رہے ہوتے ہیں کہ جہاں وہ مہمان جائیں وہاں فرنیچر اور پر دوں وغیرہ کا ایسا حال ہورہا ہوتا ہے کہ گھر والا کا نوں کو ہاتھ لگا رہا ہوتا ہے کہ میری تو بہ جو آئندہ اس خاندان کو اپنے گھر دعوت پر بلاؤں، بلکہ شاید باقی دعوتوں سے بھی تو بہ کر لے۔اور پھر اگر گھر والے کے اپنے بچے سلجھے ہوئے ہوں تو دوسرے بچوں کو دیکھ کر وہ بھی دھما چوکڑی شروع کر دیتے ہیں ، اس میں شامل ہو جاتے ہیں جو میزبان کی تلملاہٹ کا اور بھی زیادہ باعث بن جاتا ہے۔تو یہ کوئی چھوٹی چھوٹی باتیں نہیں ہیں جن کے متعلق کہا جائے کہ کوئی بات نہیں، بڑے ہو کر خود ہی آداب آجائیں گے۔بڑے ہو کر یہ آداب نہیں آیا کرتے۔میں نے تو ایسے لوگوں کو دیکھا ہے کہ بڑے ہو کر کھانے کی عادتیں ایسی پختہ ہو جاتی ہیں کہ ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔تو