اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 243 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 243

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 243 جلسہ سالانہ تنزانیہ 2005 مستورات سے خطاب اللہ کی عبادت کرو اور دنیا میں نیکیوں کو رائج کرو۔خاوندوں کی اطاعت گزار بنو۔یہ نہ سمجھیں کہ بچوں کی اچھی تربیت کرنے والے کو ثواب ہے اور جو بچوں پر توجہ نہ دے سکے اس پر کوئی فرق نہیں پڑتا، جو جی چاہے کریں۔بلکہ حدیث میں آتا ہے کہ جس طرح مرد اپنے گھر کا نگران ہے۔اس بات کا ذمہ دار ہے کہ اپنے بیوی بچوں کی خوراک ، رہائش اور کپڑوں اور دوسری ضروریات کا انتظام کرے، انہیں پوری کرے۔اسی طرح عورت بھی اس بات کی ذمہ دار ہے کہ اپنے خاوند کے گھر اور اس کے بچوں کو سنبھالے۔ان کی پرورش کرے۔ان کی اعلی تعلیم و تربیت کی طرف توجہ دے۔اگر وہ یہ نہیں کرتی تو بحیثیت گھر کے نگران اور محافظ ہونے کے اس سے اللہ تعالیٰ حساب کتاب لے گا۔عورت کو اپنی عزت کی حفاظت اور نیکیاں پھیلانے کیلئے زیادہ کوشش کرنی چاہئے پس یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے احمدی مسلمان عورت پر اور ہر عورت کو اس کی طرف بہت توجہ دینی چاہئے۔اس زمانے میں تو ایک لحاظ سے آپ خوش قسمت ہیں کہ تبلیغی اور تربیتی اور نیکیوں کے پھیلانے کا جہاد ہے جس میں عورتیں بھی اسی طرح حصہ لے سکتی ہیں جس طرح مرد۔اور پھر اللہ تعالیٰ آپ کو اس بات پر زائد اجر دے گا کہ آپ نے اپنے خاوند کے بچوں کی اچھی تربیت کی ، اپنی گھریلو گا ذمہ داریاں پوری کیں۔پس ہر احمدی عورت کو چاہئے کہ بڑھ چڑھ کر اس جہاد میں حصہ لے۔معاشرے میں نیکیاں پھیلانے اور خدا تعالیٰ کی عبادت کی طرف خود بھی پہلے سے بڑھ کر توجہ دیں۔اپنی اولاد کی تربیت بھی ایسے طریقے سے کریں کہ ان میں صرف نیکیوں اور اچھائیوں کے کوئی اور بات نظر ہی نہ آئے اور ہر دیکھنے والا کہے کہ یہ احمدی ماؤں کے بچے کیسے تمیز دار ہیں۔کتنے اچھے اخلاق کے مالک ہیں۔دنیا کے گند کی طرف بالکل توجہ نہیں دیتے۔اور پھر جب آپ جہاد کی صورت میں اپنے معاشرے میں بھی یہ نیکیاں رائج کرنے کی کوشش کریں گی تو آپ کے دل کو بھی سکون مل رہا ہوگا اور اس بات کی خوشی ہوگی کہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والی ہوں۔آجکل معاشرے میں بے حیائی اور نگ اور مرد عورت کا آپس میں میل جول عام ہے۔احمدی عورتیں اگر پاکیزہ ہو کر دوسروں کو بتا ئیں گی کہ عورت کی عزت اسی میں ہے کہ پاک باز رہے تو یہ نمونہ نیکیاں پھیلانے کا باعث بنے گا۔