اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 228 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 228

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 228 خطبہ جمعہ فرمودہ 28 جنوری 2005ء چارلڑکیوں کی وہ مائیں تھیں۔جب ان کی غیر احمدی ما ئیں آئیں، جو مسلمان تھیں، تو میں نے ان سے پوچھا کہ تمہاری بیٹیاں احمدی ہیں اور تم لوگ صرف اس وجہ سے ان پر سختیاں کر رہے ہو کہ وہ احمدی کیوں ہیں۔آج تم نے ہمارا یہ جلسہ سنا ہے، مجھے بتاؤ کہ تمہیں یہاں کیا چیز ایسی لگی ہے جو اسلامی تعلیم کے خلاف ہو۔کہنے لگیں کچھ نہیں بلکہ یہاں ہر چیز عین اسلام کے مطابق ہے۔تو میں نے ان کو بتایا کہ یہ تو ہماری تعلیم کا حصہ ہے یہ تم نے دیکھ لیا سن لیا، تم اب اپنی بیٹی کو بھی جانتی ہو، یقیناً اس کی دینی حالت کا احمدیت قبول کرنے سے پہلے کا بھی تمہیں علم ہوگا اور اب کا بھی ہے۔پھر تمہارے دوسرے بچے بھی ہیں جو مسلمان ہیں ہم بتاؤ کہ احمدیت قبول کرنے کے بعد تمہاری بیٹی کی دینی حالت اچھی ہوئی ہے یا اور خراب ہوئی ہے۔کہنے لگیں (وہ تین عورتیں تھیں ) کہ ہمارے بچے جو احمدی ہوئے ہیں باقی بچوں کی نسبت گھر میں اسلام کی عملی تصویر کا نمونہ ہیں۔میں نے ان کو کہا کہ اگر ایسی بات ہے تو پھر تم ان پر سختیاں کیوں کر رہی ہو۔ان اچھوں میں تو تم لوگوں کو بھی شامل ہونا چاہئے اور اپنے خاندان کو بھی شامل کرنا چاہئے۔تو بہر حال ان کے دل کافی نرم ہو گئے۔کچھ نے کہا ہم سوچیں گے احمدی ہونے کے بارے میں۔ایک عورت نے تو وہیں کہا کہ میں بیعت کروں گی۔تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے چھوٹی سی باتوں سے بعض دفعہ دلوں کو بدل دیتا ہے۔ان لوگوں میں شرافت ہے، ہمارے بعض لوگوں اور مولویوں کی طرح بزدل اور ڈھیٹ نہیں ہیں کہ مولوی کا خوف زیادہ ہو اور اللہ کا خوف کم ہو۔بہر حال جیسا کہ میں نے کہا کہ جانے سے پہلے اکثر کے رویے بالکل نرم ہو چکے تھے۔انہوں نے یہ نہیں کہا کہ احمدی ہوتی ہیں لیکن بہر حال یہ وعدہ کر کے گئیں کہ اب ہم اپنے احمدی بچوں سے نرم سلوک کریں گے، نرمی کا سلوک کریں گے۔اللہ تعالیٰ ان سب بیعت کرنے والوں کو بھی ثبات قدم عطا فرمائے۔( سپین کے دورہ میں ) بعض عیسائی خاندان آئے ہوئے تھے ملے، ایکواڈور کی دو تین فیملیاں تھیں، وہ قرطبہ سے جلسے پر آئے ہوئے تھے کسی احمدی کے واقف تھے ، ان میں سے ایک بڑی پڑھی لکھی خاتون کہنے لگیں کہ آپ نے اس چھوٹی سی جگہ پہ مسجد بنائی ہے یہاں کون آتا ہوگا اور پھر آپ سارے پین میں کس طرح پھیلیں گے۔بڑے شہروں میں بنائیں تا کہ تعارف زیادہ ہو۔میری آخری تقریر سننے کے بعد مجھے ملی تھیں۔میں نے انہیں یہی کہا کہ آج کی تقریر میں میں ذکر کر چکا ہوں