اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 18 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 18

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 18 جلسہ سالانہ برطانیہ 2003 مستورات سے خطاب میاں مبارک صاحب، جو چھوٹے بچے تھے، ان سے کسی کام کے لئے کہہ رہے تھے اور ضد کر کے ہاتھ سے رحل کو دھکا دیا کہ پہلے میرا کام کر دیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بے ادبی دیکھی تو انہیں تھپڑ دے مارا۔اب یہاں دین کے معاملے میں کوئی رعایت نہیں۔حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بچوں کو سزا دینے کے سخت مخالف تھے۔ایک دفعہ ایک شخص نے اپنے بچے کو عادتا مارا تو آپ نے اسے بلا کر بڑے درد سے فرمایا: ”میرے نزدیک بچوں کو یوں مارنا شرک میں داخل ہے۔گویا بدمزاج مار نے والا ہدایت اور ربوبیت میں اپنے تئیں حصہ دار بنانا چاہتا ہے۔اگر کوئی شخص خود دار اور اپنے نفس کی باگ کو قابو سے نہ دینے والا اور پورا تحمل اور بردباراور با سکون اور باوقار ہو تو اسے البتہ حق پہنچتا ہے کہ کسی وقت مناسب پر کسی حد تک بچے کو سزا دے یا چشم نمائی کرے جس طرح اور جس قدر سزا دینے میں کوشش کی جاتی ہے کاش دعا میں لگ جائیں اور بچوں کے لئے سوز دل سے دعا کرنے کو ایک حزب ٹھہرا لیں اس لئے کہ والدین کی دعا کو بچوں کے حق میں خاص قبول بخشا گیا ہے۔“ ( ملفوظات جلد اول، جدید ایڈیشن، صفحہ 308-309) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ہدایت اور تربیت حقیقی خدا کا فعل ہے۔سخت پیچھا کرنا اور ایک امر پر اصرار کو حد سے گزار دینا یعنی بات بات پر بچوں کو روکنا اورٹو کنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ گویا ہم ہی ہدایت کے مالک ہیں اور ہم اُس کو اپنی مرضی کے مطابق ایک راہ پر لے آئیں گے۔یہ ایک قسم کا شرک خفی ہے۔اس سے ہماری جماعت کو پر ہیز کرنا چاہئے۔ہم تو اپنے بچوں کے لئے دعا کرتے ہیں اور سرسری طور پر قواعد اور آداب تعلیم کی پابندی کراتے ہیں۔بس اس سے زیادہ نہیں۔اور پھر اپنا پورا بھروسہ اللہ تعالیٰ پر رکھتے ہیں۔جیسا کسی میں سعادت کا ختم ہو گا وقت پر سرسبز ہو ( ملفوظات جلد اول، جدید ایڈیشن ،صفحہ 309) جائے گا“۔