اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 17
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 17 جلسہ سالانہ برطانیہ 2003 مستورات سے خطاب بعض لوگ غلط طور پر سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ کچھ نہیں کہنا۔تو جہاں عزت سے پیش آؤ کا ارشاد ہے وہاں اچھی تربیت کا ارشاد بھی ساتھ ہی ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر بات میں سختی نہ کر ولیکن غلط کام پر بچوں کو سمجھاؤ بھی کیونکہ یہ تربیت کا حصہ ہے۔اگر کسی بات پر لوگوں کے سامنے ڈانٹنا بچے کی نفسیات پر بُرا اثر ڈالتا ہے تو وہاں اس کو پیار سے سمجھا دینا، کسی غلط کام سے روکنا اس کی اصلاح کا باعث بنتا ہے۔تو بعض چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں جن کی طرف مائیں نظر ہی نہیں کرتیں ، توجہ ہی نہیں دیتیں اور یوں نظر انداز کر دیتی ہیں جیسے کوئی بات ہی نہ ہو۔مثلاً کسی کے گھر گئے ہیں، بچہ چیزیں چھیٹر رہا ہے یا چاکلیٹ یا اور کوئی کھانے کی چیز کھا کر پر دوں یا صوفوں پر مل رہا ہے، کرسیوں سے ہاتھ پونچھ رہا ہے۔ایسی صورت میں گھر والے دل ہی دل میں پیچ و تاب کھا رہے ہوتے ہیں کہ ماں کسی طرح اپنے بچے کو اس حرکت سے روکے۔لیکن ماں اس کی طرف توجہ ہی نہیں دے رہی ، دیکھنے کی روادار ہی نہیں ہوتی ، یا دیکھ کر نظریں پھیر لیتی ہے کہ اس وقت اگر میں نے اس کو کچھ کہا تو بچے کی عزت نفس کچلی جائے گی اور شرمندہ ہوگا۔یہ طریق بالکل غلط ہے۔پھر بعض دفعہ یوں ہوتا ہے کہ بچے نے کوئی شرارت کی ، بلاوجہ کسی دوسرے بچے کو مارا، یا کسی کی کوئی چیز تو ڑ دی تو ماں باپ بچے کو کہہ تو رہے ہوتے ہیں کہ یہ کیوں کیا لیکن ان کے چہرے پر جو تاثرات ہوتے ہیں اور ماں باپ کے ہونٹوں پر جو دبی دبی مسکراہٹ ہوتی ہے وہ بتا رہی ہوتی ہے کہ کوئی بات نہیں۔یہ یاد رکھیں بچہ بڑا ہوشیار ہوتا ہے، وہ سب تأثرات دیکھ رہا ہوتا ہے اور اپنے ماں باپ کی ہر ادا سے واقف ہوتا ہے۔تو اس طرح اس کی تربیت ہونے کی بجائے بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ٹھیک ہے ایسی باتوں پر مار دھاڑ کرنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن چہرے پر ذرا سنجیدگی سی پیدا کر لینی چاہئے تا کہ بچے کو یہ احساس ہو کہ میں نے غلط کام کیا ہے۔پھر دین کے معاملے میں بچپن سے ہی بچے کے دل میں اس کی اہمیت اور پیار اور عزت پیدا کریں۔بعض دفعہ بچے ضد میں آکر بڑی نا گوار بات کر جاتے ہیں۔جہاں بہر حال بچے کو سمجھانے کے لئے ماں باپ کو خشتی بھی کرنی پڑتی ہے۔اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جہاں ہر وقت یہ نصیحت فرما رہے ہیں کہ بچے سے نرمی کا سلوک کرو وہاں یہ مثال بھی ہے۔حضرت اماں جان کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ وہ قرآن شریف رحل پر رکھ کر پڑھ رہی تھیں۔