اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 208 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 208

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 208 خطبه جمعه فرمود 3 دسمبر 2004 (اقتباس) جیسے نافرمان اپنے ارد گر داکٹھا کرے۔جیسا کہ فرماتا ہے: قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّي لَوْ لَا دُعَاؤُكُمْ ج فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ يَكُوْنُ لِزَامًا (سورة الفرقان: 78) تو کہہ دے کہ اگر تمہاری دعا نہ ہوتی تو میرا رب تمہاری کوئی پرواہ نہ کرتا۔پس تم اسے جھٹلا چکے ہو، ضرور اس کا وبال تم سے چمٹ جانے والا ہے۔پس واضح ہو گیا کہ دعاؤں اور عبادت کی اللہ کو ضرورت نہیں ہے بلکہ تمہیں ضرورت ہے۔پس اگر تم انکار پر تلے بیٹھے ہو تو خدا تعالیٰ کو بھی تمہاری کوئی پرواہ نہیں ہے۔اب سزا کے لئے تیار ہو جاؤ یہ بہر حال اس کا حق ہے، وہ مالک ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: کامل عابد وہی ہوسکتا ہے جو دوسروں کو فائدہ پہنچائے لیکن اس آیت میں اور بھی صراحت ہے اور وہ آیت یہ ہے : قُلْ مَايَعْبُوا بِكُمْ رَبِّي لَوْ لَا دُعَاؤُكُمْ یعنی ان لوگوں کو کہہ دو کہ اگر تم لوگ ربّ کو نہ پکارو تو میرا رب تمہاری پر واہ ہی کیا کرتا ہے۔یا دوسرے الفاظ میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ وہ عابد کی پرواہ کرتا ہے“۔الحکم جلد 6 نمبر 24 مورخہ 10 جولائی 1902ء صفحہ 4) جو عبادت کرنے والا ہے اس کی بات مانتا ہے اس کے لئے کھڑا ہوتا ہے۔دشمن سے اس کو محفوظ رکھتا ہے۔اپنی ایک رؤیا کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : ”انسان کی پیدائش کی اصل غرض تو عبادت الہی ہے لیکن اگر وہ اپنی فطرت کو خارجی اسباب اور بیرونی تعلقات سے تبدیل کر کے بریکار کر لیتا ہے۔یعنی عبادت کی غرض تو یہی ہے لیکن اگر ماحول کا اثر اس پر پڑ گیا اور اللہ میاں نے جو اس کی فطرت میں چیز رکھی تھی اس کو بریکار کر لیا اور ضائع کر دیا تو خدا تعالیٰ اس کی پرواہ نہیں کرتا۔اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے۔قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَبِّي لَوْ لَا دُعَاؤُكُمْ (الفرقان : 78)