اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 16
الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصّہ اوّل 16 جلسہ سالانہ برطانیہ 2003 مستورات سے خطاب بن جاتا ہے۔ان کو فکر ہوتی ہے کہ ہمارے بعد اس کا کیا ہوگا۔اگر صاحب جائیداد والدین ہیں تو پھر یہ فکر کہ ہمارے بعد یہ ساری جائیداد اڑادے گا۔معاشرے پر بھی بوجھ ہے، نظام کے لئے بھی ہر وقت مشکل کھڑی کرنے والا ہوتا ہے۔اور پھر کیونکہ بچپن سے ہی بہنوں کو دبا کر رکھنے اور ان کے حقوق کا خیال نہ رکھنے کی عادت ہوتی ہے تو پھر بہنوں کے جائیداد کے حصے بھی کھا جاتے ہیں۔اور پھر علاوہ معاشی تنگی کے بعض لڑکیاں سسرال سے اور خاوندوں سے کچھ نہ لانے کے طعنے سنتی ہیں۔تو یہ ایک ایسا خوفناک شیطانی چکر ہے جو ماں باپ کی ذراسی غلطی سے دُور تک بدنتائج کا حامل ہوتا ہے۔اور عموماً دیکھا گیا ہے کہ مائیں ہی ایسے لاٹر پیار کر کے بچوں کو بگاڑ رہی ہوتی ہیں اور الا ماشاء اللہ باپ بھی شامل ہو جاتے ہیں۔حضرت خلیفہ ایسی اول کی ایک بہت ہی پیارے انداز میں نصیحت ہے۔آپ فرماتے ہیں: اولاد کے لئے ایسی تربیت کی کوشش کرو کہ ان میں باہم اخوت، اتحاد، جرأت، شجاعت، خودداری، شریفانه آزادی پیدا ہو۔ایک طرف انسان بناؤ، دوسری طرف مسلمان“۔بچوں سے عزت سے پیش آئیں:۔( خطبات نور صفحہ 75) ایک حدیث میں آتا ہے۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضور ﷺ نے فرمایا: اپنے بچوں سے عزت کے ساتھ پیش آؤ اور ان کی اچھی تربیت کرو۔(سنن ابن ماجه أبواب الأدب باب بر الوالد) حضرت خلیفہ المسیح الرابع نے فرمایا تھا کہ جو اپنے بچوں کے ساتھ شروع سے ہی عزت سے پیش آتے ہیں ان کے بچے بھی بڑے ہو کر ان کی عزت کرتے ہیں اور باہر دوسروں کی بھی عزت کرتے ہیں اور یہ سلسلہ آگے نسلاً بعد نسل چلتا رہتا ہے۔اس لئے بچوں کو معمولی اور حقیر سمجھ کر بے وجہ جھڑ کنا نہیں چاہئے۔اور جہاں تک ممکن ہو ان سے عزت کا سلوک کیا کرو۔لیکن اس کے بھی غلط معنے لے لئے جاتے ہیں۔عزت سے پیش آنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں جو