اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 192
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 192 سالانہ اجتماع لجنہ برطانیہ 2004 سے خطاب آئیں گی کہ پیروں فقیروں کے پاس جا کر تعویذ وغیرہ لئے جاتے ہیں۔کسی نے بہو کے خلاف تعویذ لینا ہے، کسی نے ساس کے خلاف تعویذ لینا ہے، کسی نے ہمسائی کے خلاف تعویذ لینا ہے، کسی نے خاوند کے حق میں تعویذ لینا ہے۔بے تحاشا بدر سمیں پیدا ہو چکی ہیں۔یہ سب عورتوں کی بیماریاں ہیں کہ یہ شرک کی طرف بڑی جلدی مائل ہو جاتی ہیں۔اور یہ بھی کہ خدا تعالیٰ کو کچھ نہ سمجھنا۔نماز، دعا کی طرف توجہ نہ ہونا۔اگر فکر ہے تو پیروں فقیروں کے ہاں حاضریاں دینے کی ہے۔آپ خوش قسمت ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس جنجال سے نکالا ہوا ہے۔پھر بعضوں نے اپنی اولا د کو بت بنایا ہوا ہے۔کوئی کم پیسے والی ہے تو اس نے زیادہ پیسے والی کو اس حد تک چڑھایا ہوا ہے کہ بت بنا کر رکھا ہوا ہے۔غرض اس طرح کی بے انتہا لغویات ہیں جن کا اظہار ہو رہا ہوتا ہے اور جن میں خدا تعالیٰ پر پورا ایمان نہ لانے والے ملوث ہوتے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جیسا کہ میں نے کہا عموماً احمدیوں میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ چیزیں نہیں ہیں ، یہ باتیں نہیں ہیں۔لیکن جب بعض دفعہ ایسی باتیں پسی لگتی ہیں کہ بعض گھروں میں یہ باتیں پیدا ہو رہی ہیں تو فکر پیدا ہوتی ہے۔اور یہ کمی ہے ایمان کی ، یہ کمی ہے اللہ تعالیٰ کی صفات کو نہ سمجھنے کی۔ہر احمدی عورت کا خاص طور پر کیونکہ اس کی گود سے اگلی احمدی نسل نے پل کر نکلنا ہے، یہ معیار ہونا چاہئے کہ اس کا خدا تعالیٰ کے ساتھ ایک خاص تعلق ہو۔جب یہ تعلق پیدا ہو جائے گا تو ہر چھوٹے شرک سے لے کر ہر بڑے شرک تک ہر چیز سے ہر شرک سے بچنے والی ہوں گی۔اور شیطان کا حملہ کبھی کامیاب نہیں ہو گا انشاء اللہ۔اور انشاء اللہ تعالیٰ اگلی نسلیں بھی خدا تعالیٰ سے لو لگانے والی اٹھیں گی۔پھر نیک اور ایمان لانے والی عورت کی یہ بھی نشانی بتائی کہ وہ مکمل طور پر اللہ کے احکام کی پیروی کرنے والی مکمل فرمانبردار اور اطاعت دکھانے والی ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ نے جو حکم دئے ہیں ان پر عمل کرنے والی ہوتی ہے۔لجنہ کا عہد اور اس کے تقاضے جیسا کہ میں نے بتایا شرک سے بچنے والی ہوں گی تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلنا چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والی بھی ہوں۔اپنے دن اور رات اللہ تعالیٰ کی عبادت سے بھرنے والی ہوں۔اپنی اولا دوں کو نمازوں کی عادت ڈالنے والی ہوں۔ان کو نمازوں کی تلقین کرنے والی ہوں۔اور جیسا کہ