اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 166
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 166 جلسہ سالانہ جرمنی 2004 مستورات سے خطاب یعنی عاجز بننا چاہئے گناہوں سے نجات حاصل کرنی چاہئے تو یہ جو عاجزی ہے کس طرح حاصل کی جائے۔سب سے ایسا درجہ جو عاجزی کے لحاظ سے بڑا درجہ ہو وہ کیا ہوسکتا ہے۔تو اس نے پھر سوچا۔فرمایا کہ 66 معلوم ہوا کہ کتے سے زیادہ عاجز کوئی نہیں۔“ کتا ایسا ہے جو عاجز ہوتا ہے۔تو اس نے اس کی آواز سے رونا شروع کیا۔کسی اور شخص نے سمجھا کہ مسجد میں کتا آ گیا ہے“ مسجد میں وہ عبادت کر رہا تھا تو اس نے کہا کہ ایسا نہ ہو کہ کوئی میرا بر تن پلید کر دیوے تو اس نے آکر دیکھا تو عابد ہی تھا۔“ وہ عبادت کرنے والا جو تھا وہی تھا وہاں۔وسکتا کہیں نہ دیکھا۔آخر اس نے پوچھا کہ یہاں کتا رو رہا تھا۔اس نے کہا کہ میں ہی کتا ہوں۔پھر پوچھا کہ تم ایسے کیوں رو ر ہے تھے ؟ کہا کہ خدا تعالیٰ کو عاجزی پسند ہے اس واسطے میں نے سوچا کہ اس طرح میری عاجزی منظور ہو جاوے گی۔“ تو بعض لوگوں نے اس طرح بھی طریق اختیار کئے ہیں۔پھر فرمایا کہ حضرت ابراہیم نے اپنے لڑکے کے واسطے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو جاوے۔اسی طرح انسان کو چاہئے کہ دعا کرے بہت سے شخص ایسے ہوتے ہیں کہ کسی گناہ سے نہیں بچتے لیکن اگر ان کو کوئی شخص بے ایمان یا کچھ اور کہہ دیوے تو بڑے جوش میں آتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہم تو کوئی گناہ نہیں کرتے پھر ہم کو یہ کیوں کہتا ہے۔اس طرح انسان کو معلوم نہیں کہ کیا کیا گناہ اس سے سرزد ہوتے ہیں۔پس اس کو کیا خبر ہے کہ کیا کچھ لکھا ہوا ہے۔پس انسان کو چاہئے کہ اپنے عیبوں کو شمار کرئے“ اپنی جو غلطیاں ہیں، خامیاں ہیں کو تاہیاں ہیں ان کو گنتا رہے دیکھتا رہے