اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 162 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 162

الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصّہ اوّل 162 جلسہ سالانہ جرمنی 2004 مستورات سے خطاب حیا کے اعلیٰ معیار قائم کرنے کی ضرورت پھر فرمایا کہ اگلا قدم جو ہے وہ یہ ہے کہ فروج کی حفاظت کرنے والیاں یعنی حیا کے بھی اعلیٰ معیار قائم کرنے والیاں ہوں اور یہ بھی کہ اپنے کان، آنکھ ، منہ سے کسی کو تکلیف نہ پہنچانے والی ہوں، ان کی حفاظت کرنے والی ہوں۔اس میں جیسا کہ میں نے پہلے کہا تھا لغویات کے سننے اور کہنے سے پر ہیز کرنے والی بھی ہوں۔کسی کو بھی آپ کی زبان سے تکلیف نہ پہنچے۔یہاں بھی ان دنوں میں ،ان جلسے کے دنوں میں خاص طور پر اور عموماً کسی کے خلاف کوئی سخت کلمہ آپ کے منہ سے نہ نکلے اور اگر کوئی لفظ نکلے تو وہ دعا ہی کا لفظ ہو جو ایک احمدی عورت کی شان ہے بلکہ ہر احمدی کی شان ہے۔بعض دفعہ یہاں سے بعض ایسی شکائتیں بھی آتی رہیں کہ بعض اجلاسوں میں ذرا ذراسی بات پر تو تکار ہوئی اور پھر لڑائی شروع ہو گئی اور مرد بھی اس میں شامل ہو گئے۔تو یہ تقویٰ نہیں ہے بلکہ انتہائی گری ہوئی حرکت ہے۔تقویٰ تو ایک طرف رہا۔پھر ایسی مجلسوں میں بیٹھ کر باتیں بھی نہیں سننی چاہئیں جہاں کسی کے خلاف کوئی چغلی ہو رہی ہو۔کسی کے خلاف کوئی بات ہو رہی ہو۔کسی کا مذاق اڑایا جا رہا ہو، استہزا کیا جارہا ہو، ٹھٹھہ کیا جارہا ہو۔پھر آنکھوں کو بھی حیا سے رکھیں۔نظریں نیچی رکھیں اور تقویٰ کے اعلیٰ معیار قائم کریں۔اسی حکم میں اللہ تعالیٰ کا ایک حکم پر دے کا بھی ہے، اس کی پابندی کرنی بھی ضروری ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ” آج کل پردہ پر حملے کئے جاتے ہیں لیکن یہ لوگ نہیں جانتے کہ اسلامی پردہ سے مراد زنداں نہیں ( یعنی قید خانہ نہیں ہے بلکہ ایک قسم کی روک ہے کہ غیر مرد اور عورت ایک دوسرے کو نہ دیکھ سکے۔جب پردہ ہو گا ٹھوکر سے بچیں گے۔ایک منصف مزاج کہ سکتا ہے کہ ایسے لوگوں میں جہاں غیر مرد و عورت اکٹھے بلا تأمل اور بے محابا مل سکیں ، سیریں کریں، کیونکر جذبات نفس سے اضطرار اٹھو کر نہ کھائیں گے۔بسا اوقات سننے اور دیکھنے میں آیا ہے کہ ایسی قومیں غیر مرد اور عورت کے ایک مکان میں تنہا رہنے کو حالانکہ دروازہ بھی بند ہو، کوئی عیب