اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 141
الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصّہ اوّل 141 جلسہ سالانہ برطانیہ 2004 مستورات سے خطاب جب والدین ان کو اپنے سے جدا اور دوسرے کے حوالے کرتے ہیں تو خیال کرو کہ کیا امیدیں ان کے دلوں میں ہوتی ہیں اور جن کا اندازہ انسان عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ کے حکم سے ہی کر سکتا ہے۔فرمایا کہ: ”خدا تعالیٰ کے قانون کو اس کے منشاء کے برخلاف ہرگز نہ برتنا چاہئے اور نہ اس سے ایسا فائدہ اٹھانا چاہئے جس سے وہ صرف نفسانی جذبات کی ایک سپر بن جاوے۔یاد رکھو کہ ایسا کرنا معصیت ہے۔خدا تعالیٰ بار بار فرماتا ہے کہ شہوات کا تم پر غلبہ نہ ہو بلکہ تمہاری غرض ہر ایک امر میں تقویٰ ہو۔( ملفوظات جلد ہفتم۔صفحہ 63-65) تو یہ ہے اسلام کی خوبصورت تعلیم کہ مرد کی فطرت کے تقاضے کو بھی ملحوظ رکھا ہے لیکن ساتھ ہی عورت کے حقوق کو بھی تحفظ دیا ہے اور فرمایا کہ تم مومن ہو تو گھریلو معاملات میں ذاتی معاملات میں ہمیشہ تمہیں تقویٰ مدنظر رہنا چاہئے۔پھر فرمایا کہ: مخالفوں کی طرف سے یہ اعتراض ہوا کرتا ہے کہ تعدد ازواج میں یہ ظلم ہے کہ اعتدال نہیں رہتا۔اعتدال اسی میں ہے کہ ایک مرد کے لئے ایک ہی بیوی ہو۔مگر مجھے تعجب ہے کہ وہ دوسروں کے حالات میں کیوں خواہ مخواہ مداخلت کرتے ہیں جبکہ یہ مسئلہ اسلام میں شائع متعارف ہے کہ چار تک بیویاں کرنا جائز ہے مگر جبر کسی پر نہیں۔اور ہر ایک مرد اور عورت کو اس مسئلہ کی بخوبی خبر ہے تو یہ اُن عورتوں کا حق ہے کہ جب کسی مسلمان سے نکاح کرنا چاہیں تو اول شرط کرالیں کہ ان کا خاوند کسی حالت میں دوسری بیوی نہیں کرے گا۔اور اگر نکاح سے پہلے ایسی شرط لکھی جائے تو بے شک ایسی بیوی کا خاوند اگر دوسری بیوی کرے تو جرم نقض عہد کا مرتکب ہو گا۔“ (یعنی کہ عہد کے توڑنے کا مرتکب ہوگا۔) لیکن اگر کوئی عورت ایسی شرط نہ لکھا دے اور حکم شرع پر راضی ہووے تو اس حالت