اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 139 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 139

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 139 جلسہ سالانہ برطانیہ 2004 مستورات سے خطاب نے جو چار شادیوں تک کی اجازت دی ہے وہ بعض شرائط کے ساتھ دی ہے۔ہر ایک کو کھلی چھٹی نہیں ہے کہ وہ شادی کرتا پھرے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ تم تقویٰ پر قائم ہو اپنا جائزہ لو کہ جس وجہ سے تم شادی کر رہے ہو وہ جائز ضرورت بھی ہے۔پھر یہ بھی دیکھو کہ تم شادی کر کے بیویوں کے درمیان انصاف کر سکو گے کہ نہیں۔اور اگر نہیں تو پھر تمہیں شادی کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔اگر تم پہلی بیوی کی ذمہ داریاں اور حقوق ادا نہیں کر سکتے اور دوسری شادی کی فکر میں ہو تو پھر تمہیں دوسری شادی کا کوئی حق نہیں ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے یہاں تک فرمایا ہے کہ: یہ حقوق اس قسم کے ہیں کہ اگر انسان کو پورے طور پر معلوم ہوں تو بجائے بیاہ کے وہ ہمیشہ رنڈوا رہنا پسند کرے۔خدا تعالیٰ کی تہدید کے نیچے رہ کر جو شخص زندگی بسر کرتا ہے وہی ان کی بجا آوری کا دم بھر سکتا ہے۔ایسے لذات کی نسبت جن سے خدا تعالیٰ کا تازیانہ ہمیشہ سر پر رہے تلخ زندگی بسر کر لینی ہزار ہا درجہ بہتر ہے۔تعدد ازدواج کی نسبت اگر ہم تعلیم دیتے ہیں تو صرف اس لئے کہ معصیت میں پڑنے سے انسان بچار ہے اور شریعت نے اسے بطور علاج کے ہی رکھا ہے۔( ملفوظات جلد ہفتم صفحہ 63-64 مطبوعہ لنڈن ) یعنی اگر یہ احساس ہو کہ ان حقوق کو جو اللہ تعالیٰ نے عورت کے حقوق مقرر فرمائے ہیں ادا نہ کر کے اللہ تعالیٰ مرد کو کتنی شدید پکڑ میں لا سکتا ہے تو فرمایا کہ اگر مردوں کو یہ علم ہو تو وہ شاید یہ بھی پسند نہ کریں کہ ایک شادی بھی کریں۔ایک شادی بھی ان کے لئے مشکل ہو جائے چونکہ پتہ نہیں کس وجہ سے عورت کا کونسا حق ادا نہ کرنے کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ کے نیچے آ جائیں اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی لے لیں۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ: " دو پہلی بیوی کی رعایت اور دلداری یہاں تک کرنی چاہئے کہ اگر کوئی ضرورت مرد کو ازدواج ثانی کی محسوس ہو لیکن وہ دیکھتا ہے کہ دوسری بیوی کے کرنے سے