اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 138 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 138

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 138 جلسہ سالانہ برطانیہ 2004 مستورات سے خطاب ہے کہ اپنے اس حق کو استعمال کرتے ہوئے عورتوں کے ساتھ زیادتی نہ کرو۔اگر اس طرح زیادتی کرو گے تو یہ ظلم ہوگا اور پھر ظلم کی سزا بھی تمہیں ملے گی۔ایک دوسری آیت وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَإِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (البقرة: 228) کی تشریح میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے: اور اگر طلاق دینے پر پختہ ارادہ کر لیں سو یا د رکھیں کہ خدا سننے والا اور جاننے والا ہے۔یعنی اگر وہ عورت جس کو طلاق دی گئی خدا کے علم میں مظلوم ہو اور پھر وہ بددعا کرے تو خدا اس کی بد دعاسن لے گا“۔( تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام زیر آیت سورۃ البقرہ 228) تو یہاں تک مردوں کو ڈرایا ہے۔دیکھیں آپ کے حقوق قائم کرنے کے لئے کس طرح مردوں کو انذار ہے۔تعدد ازدواج پر اعتراض کے جوابات پھر ایک اعتراض اسلام پر یہ کیا جاتا ہے اور اسی اعتراض کو لے کر عورتوں کے دلوں میں یہ احساس پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ دیکھو تمہارے جذبات کی کوئی قدر نہیں۔تمہیں تو اسلام نے گھر کے اندر بند کر کے رکھا ہوا ہے اور مرد کو کھلی چھٹی دی ہے جو چاہے کرے حتی کہ اگر اس کی خواہش ہو وہ ایک سے زیادہ شادیاں کر لے تو اس کی بھی اجازت ہے۔اول تو یہ دجالی اعتراضات ہیں بغیر سیاق و سباق کے ان کو پیش کیا جاتا ہے اور پتہ ہے کہ یہ عورت کی کمزوری ہے اس لئے اس کو انگیخت کیا ہے کہ عورت کے جذبات کو ابھار کر فائدہ اٹھایا جائے۔ان اعتراض کرنے والوں سے کوئی پوچھے کہ تم جو ایک شادی پر اکتفا کرنے کو اچھا سمجھتے ہو کیا تمہیں یقین ہے کہ تمہارے خاوند بعض برائیوں میں مبتلا نہیں۔اکثر کا جواب یہی ملے گا کہ ہمیں اپنے خاوندوں پر تسلی نہیں اور ان مغربی معاشروں میں طلاقوں کی شرح انتہا کو پہنچی ہوئی ہے۔اس میں سے ایک بہت بڑی اکثریت اسی بے اعتمادی کی وجہ سے طلاقیں لیتی ہے۔عورت مرد پر شک کرتی ہے اور پھر اس شک کی وجہ سے بعض اوقات خود بھی بعض برائیوں اور فضولیات میں پڑ جاتی ہے۔اسلام