اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 137 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 137

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 137 جلسہ سالانہ برطانیہ 2004 مستورات سے خطاب یہ طریق اچھا نہیں اس سے روک دیا جائے مسلمانوں کے لیڈر عبدالکریم کو“۔1 (ضمیمہ تحفہ گولڑوی، روحانی خزائن جلد نمبر 17 صفحہ 75 ) ،2۔( تذکر طبع چہارم ص 323) آپ فرماتے ہیں کہ: اس الہام میں تمام جماعت کے لئے تعلیم ہے کہ اپنی بیویوں سے رفق اور نرمی کے ساتھ پیش آویں۔وہ ان کی کنیزیں نہیں ہیں۔درحقیقت نکاح مرد اور عورت کا باہم ایک معاہدہ ہے۔پس کوشش کرو کہ اپنے معاہدہ میں دغا باز نہ ٹھہر و۔اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ یعنی اپنی بیویوں کے ساتھ نیک سلوک کے ساتھ زندگی بسرو کرو۔اور حدیث میں ہے: خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لَاهْلِهِ یعنی تم میں سے اچھا وہی ہے جو اپنی بیوی سے اچھا ہے۔سو روحانی اور جسمانی طور پر اپنی بیویوں سے نیکی کرو۔ان کے لئے دعا کرتے رہو اور طلاق سے پر ہیز کرو۔کیونکہ نہایت بدخدا کے نزدیک وہ شخص ہے جو طلاق دینے میں جلدی کرتا ہے۔جس کو خدا نے جوڑا ہے اس کو ایک گندے برتن کی طرح جلدمت توڑو۔(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد نمبر 17 صفحہ 75 حاشیہ ) تو دیکھیں کہ اس زمانے میں بھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ سے حقوق ادا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرما دیا۔ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ اصل میں تو مرد کو ایک طرح سے عورت کا نوکر بنا دیا ہے۔آج پڑھی لکھی دنیا کا کوئی قانون بھی اس طرح عورت کو حق نہیں دلوا تا۔پھر بعض دفعہ شادی کے بعد میاں بیوی کی نہیں بنتی طبیعتیں نہیں ملتیں یا اور کچھ وجوہات پیدا ہوتی ہیں تو اسلام نے دونوں کو اس صورت میں علیحدگی کا حق دیا ہے اور یہ حق بعض شرائط کی پابندی کے ساتھ مردوں کو طلاق کی صورت میں ہے اور عورتوں کو خلع کی صورت میں ہے۔اور مردوں کو یہ بھی حکم