اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 112
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 112 خطبہ جمعہ 18 جون 2004 بمقام بیت الفتوح لندن ہیں۔اور اس تعلیم کو سامنے رکھتے ہوئے جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں اصل قرآن کا علم اور معرفت دی ہے، اللہ کرے کہ واقفین نو کی یہ جدید فوج اور علوم جدیدہ سے لیس فوج جلد تیار ہو جائے۔پھر واقفین نو بچوں کی تربیت کے لئے خصوصاً اور تمام احمدی بچوں کی تربیت کے لئے بھی عموماً ہماری خواتین کو بھی اپنے علم میں اضافے کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کو بھی وقت دینے کی طرف توجہ دینی چاہئے۔اور اس کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔اجلاسوں میں اجتماعوں میں، جلسوں میں آ کر جو سیکھا جاتا ہے وہیں چھوڑ کر چلے نہ جایا کریں۔یہ تو بالکل جہالت کی بات ہوگی کہ جو کچھ ہے وہ وہیں چھوڑ دیا جائے۔تو عورتیں اس طرف بہت توجہ دیں اور اپنے بچوں کی طرف بھی سیکھا خاص طور پر توجہ دیں۔کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ جن واقفین کو یا عمومی طور پر بچوں کی مائیں بچوں کی طرف توجہ دیتی ہیں اور خود بھی کچھ دینی علم رکھتی ہیں ان کے بچوں کے جواب اور وقف نو کے بارے میں دلچپسی بھی بالکل مختلف انداز میں ہوتی ہیں۔اس لئے مائیں اپنے علم کو بھی بڑھائیں اور پھر اس علم سے اپنے بچوں کو بھی فائدہ پہنچائیں۔لیکن اس سے یہ مطلب نہیں ہے کہ باپوں کی ذمہ داریاں ختم ہوگئی ہیں یا اب باپ اس سے بالکل فارغ ہو گئے ہیں یہ خاوندوں کی اور مردوں کی ذمہ داری بھی ہے کہ ایک تو وہ اپنے عملی نمونے سے تقویٰ اور علم کا ماحول پیدا کریں پھر عورتوں اور بچوں کی دینی تعلیم کی طرف خود بھی توجہ دیں۔کیونکہ اگر مردوں کا اپنا ماحول نہیں ہے ، گھروں میں وہ پاکیزہ ماحول نہیں ہے، تقویٰ پر چلنے کا ماحول نہیں۔تو اس کا اثر بہر حال عورتوں پر بھی ہوگا اور بچوں پر بھی ہوگا۔اگر مرد چاہیں تو پھر عورتوں میں چاہے وہ بڑی عمر کی بھی ہو جائیں تعلیم کی طرف شوق پیدا کر سکتے ہیں، کچھ نہ کچھ رغبت دلا سکتے ہیں۔کم از کم اتنا ہوسکتا ہے کہ وہ بچوں کی تربیت کی طرف توجہ دیں اس لئے جماعت کے ہر طبقے کو اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔مرد بھی عورتیں بھی۔کیونکہ مردوں کی دلچسپی سے ہی پھر عورتوں کی دلچسپی بھی بڑھے گی اور اگر عورتوں کی ہر قسم کی تعلیم کے بارے میں دلچسپی ہوگی تو پھر بچوں میں بھی دلچسپی بڑھے گی۔ان کو بھی احساس پیدا ہو گا کہ ہم کچھ مختلف ہیں دوسرے لوگوں سے۔ہمارے کچھ مقاصد ہیں جو اعلیٰ مقاصد ہیں۔اور اگر یہ سب کچھ پیدا ہو گا تو تبھی ہم دنیا کی اصلاح کرنے کے دعوے میں سچے ثابت