اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 107
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 107 جلسہ سالانہ ہالینڈ 2004 مستورات سے خطاب اطاعت کرتی رہو۔” بہت سا حصہ ان کی عزت کا تمہارے ہاتھ میں ہے“ یعنی خاوندوں کی عزت کا بہت سا حصہ تمہارے ہاتھ میں بھی ہے۔سو تم اپنی اس ذمہ داری کو ایسی ہی عمدگی سے ادا کرو کہ خدا کے نزدیک صالحات، قانتات میں گنی جاؤ“۔کشتی نوح - روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 80-81 ) یہاں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے سب سے پہلے تقویٰ کا ذکر فرمایا ہے اس بارے میں آپ مزید فرماتے ہیں کہ : تقویٰ کے بہت سے اجزاء ہیں، عجب ، خود پسندی ، مال حرام سے پر ہیز اور بداخلاقی سے بچنا بھی تقوی ہے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 81) یعنی عجب سے بچنا، خود پسندی سے بچنا، حرام مال سے بچنا اور بداخلاقی سے بھی بچنا یہ سب تقویٰ ہیں۔اور بعض عورتوں میں مجب بہت زیادہ ہوتا ہے۔عجب کا مطلب ہے کہ غرور اور تکبر۔اگر چند پیسے دوسرے سے زیادہ ہاتھ میں آگئے تو اپنے آپ کو کچھ مجھنے لگ گئیں۔اگر کسی بہتر خاندان کی ہیں تو اسی پر تکبر ہے۔اگر علم کچھ زیادہ ہے تو اسی پر گھمنڈ ہے۔غرض کہ ہر معاملہ میں صرف اپنے پر ہی نظر رکھتی ہیں، کسی کو کچھ سمجھنا ہی نہیں۔ہر وقت اپنے آپ کو ایسے ٹولے یا گروہ میں گھیرے رکھنا جو یا تو اس کے خوشامدیوں کا گروہ ہو، ہر وقت ان کی تعریف کرنے والا ہو یا ان کی ہاں میں ہاں ملانے والا ہو، یا پھر ایسی قماش کے، ایسی طبیعت کے لوگوں میں اٹھنا بیٹھنا ہو جو ایسی طبیعت رکھتے ہوں جن میں عجب ہو اور خود پسندی ہو۔جیسی ان کی اپنی طبیعت ہے ایسی ان عورتوں کی بھی ہو۔جو دوسرے کا ہنسی ٹھٹھا اڑانے والی ہو۔تو ایسے لوگ ایسی عورتیں پھر عہدہ داران کو بھی ایسی ہی نظر سے دیکھنے لگتی ہیں۔ان کو بھی اسی طرح دیکھنے والی ہوتی ہیں۔ان کے دل میں ان عہدیداران کی بھی کوئی عزت نہیں ہوتی۔نہ وہ لجنہ کی کسی عہدہ دار کو کچھ مجھ رہی ہوتی ہیں، نہ لجنہ کی صدر کو، نہ امیر کو اور پھر نظام جماعت کی بھی ان کے دل میں کوئی وقعت نہیں ہوتی۔پھر آہستہ آہستہ خلافت کے ادب و احترام سے بھی پیچھے ہٹ جاتی ہیں اور جماعت سے بھی پیچھے ہٹ جاتی ہیں۔تو فرمایا کہ عجب جو ہے جب یہ تم میں پیدا ہوگا تو خود پسندی پیدا ہو گی اور ہر وقت یہی دل چاہے گا کہ لوگ میری ہاں میں ہاں ملائیں، مجھے ہی دوسروں سے بہتر سمجھیں۔