اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 617
حضرت خلیفہ مسح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۶۱۷ خطاب ۲۲ راپریل ۲۰۰۰ء آپ لوگوں کو کیا فکر ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں زبردستی یہاں سے نکال دیا جائے گا۔اگر زبردستی نکالنا ان لوگوں کے بس کی بات ہو تو تب بھی بات ہے مگر یہ بھی تو اللہ ہی کے بس کی بات ہے اللہ جسے بچانا چاہے کوئی اس کو ہٹا نہیں سکتا، کوئی اس کو گزند نہیں پہنچا سکتا۔یہ بھی تو تو کل کا معنی ہے اور امر واقعہ ہے کہ بہت سے ایسے لوگ جو اس لحاظ سے یقین رکھتے تھے کہ خدا کی مرضی کے بغیر ہمیں کوئی ایک ملک سے دوسرے ملک میں نہیں بھیج سکتا حیرت انگیز طور پر اللہ تعالی نے ان کی مدد بھی فرمائی۔بعضوں کو ابتلاء آیا واپس جانے کا وہ اس پر ثابت قدم رہے، بعضوں کو خدا تعالی نے اسی ملک میں محفوظ رکھا اور یہاں تک کہ یہاں بھی اور باقی جگہوں میں بھی حکومت آخری فیصلے کر بیٹھی تھی کہ ان کو لازماً بھجوا دیا جائے گا۔پھر کچھ نہ کچھ ان کی تائید میں ایسی بات ظاہر ہوئی جس کے نتیجے میں اللہ تعالی کے فضل کے ساتھ ان کو یہاں یا دوسرے مغربی ملکوں میں پناہ مل گئی۔تو کسی صورت میں بھی خدا کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔مایوسی تو کفر ہے اور شیطان کی صفت ہے مایوس ہونا۔جب آپ خدا کے فضلوں سے مایوس نہیں ہونگی تو اللہ تعالی کے فضل آپ کو مزید استقامت بخشیں گے اور آپ کی وہ دعائیں بھی قبول ہو جائیں گی۔جوان کہی دعائیں ہیں ان کہی دعاؤں سے مراد یہ ہے کہ بسا اوقات دل سے دعائیں اٹھی ہیں اور ابھی ان کے لفظ بھی نہیں بنے ہوتے کہ اللہ تعالی کے ہاں قبول ہو جاتی ہیں۔پس ایسے دعائیں مانگیں، جو دل سے اُٹھا کرتی ہیں لیکن اس کے ساتھ ایک شرط بھی ہے کہ دعائیں اپنوں ہی کے لئے نہیں، اپنے لئے ہی نہیں بلکہ غیروں کے لئے بھی مانگیں ، بہت سے فلاکت زدہ ہیں، بہت مصیبتوں سے دنیا بھری پڑی ہے اور اگر آپ نظر ڈالیں تو آپ ہزاروں لاکھوں سے بہتر ہوگی۔دیکھیں تو سہی زمبابوے میں کیا ہورہا ہے اور افریقین ممالک میں اور مغربی ممالک میں سے بھی بعض کو سود وغیرہ میں اتنے بھیا نک مظالم ہو رہے ہیں اور پھر چیچنیا میں جو ظلم ہو رہے ہیں ان پر نگاہ کریں، کس طرح ننگے سر چادر میں اتاری ہوئی عورتیں اپنے بچوں کو سنبھالے ہوئے بھاگی جارہی ہیں اور پھر وہ بھی دشمن کی زد میں آکر ہلاک ہو جاتی ہیں۔ماؤں کو بچوں کا نہیں پتہ لگتا ، بچوں کو ماؤں کی خبر نہیں رہتی۔تو دنیا پر نظر کریں ان کے لئے بھی دل در دمند کریں کیونکہ یہ دعاؤں کی قبولیت کا ایک گر ہے۔جہاں اپنے لئے دعا کریں وہاں دنیا کے دوسرے دُکھے دلوں والوں کے لئے بھی دعا کریں خواہ انکا کوئی بھی مذہب ہو۔غم کا کوئی مذہب نہیں ہوا کرتا دکھوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، نہ ان کا رنگ ہوتا ہے نہ ان کا مذہب دکھ دیکھ ہی ہیں تمام انسان کے دکھ برابر ہیں اس لئے جب آپ خدا کے بندوں کے دکھوں میں شریک ہونگی تو اللہ لازماً آپ کے دکھوں