اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 44
حضرت خلیفہ مسح الرابع ' کے مستورات سے خطابات ۴۴ خطاب ۲۶ جولائی ۱۹۸۶ء ہیں کہ ایک صدی میں بعض کتب کے بیان کے مطابق ایک لاکھ عورتیں زندہ جلا دی گئیں محض اس الزام میں کہ انہوں نے دوسروں پر جادو کیا تھا۔سولھویں صدی میں یہ قسمیں لی جاتی تھیں دایہ عورتوں سے کہ وہ بچے کی پیدائش پر اس پر جادو نہیں کریں گی۔یہ جو پہلو ہے عورتوں کے مظالم کا اس کو اگر آپ دوسری تمام دنیا کی تہذیبوں سے موازنہ کر کے دیکھیں تو باقی تہذیبیں تو چھوڑیئے اسلام کے متعلق جو کہا جاتا ہے کہ اسلامی مختلف ادوار میں گذشتہ چودہ سو سال میں عورتوں پر بڑے مظالم ہوئے ہیں ان سارے مظالم کو اکٹھا کر لیں ان کا Concentrate تیار کر لیں تو چودہ سو سال میں پھیلے ہوئے جتنے بھی مظالم عورت پر اسلام کی تعلیم کے خلاف ہوئے ہیں اس سے سینکڑوں گنا زیادہ مظالم عیسائی تہذیب کے ایک سوسال کے اندر عورت پر روار کھے گئے۔اور یہ جو ایک لاکھ عورتیں یا کم و بیش اس کے لگ بھگ زندہ جلائی گئیں صرف یہی تعداد اصل حقیقت کو ظاہر نہیں کرتی۔یہ ایک لاکھ عورتیں جو جادوگرنی سمجھی گئی تھیں ان کا جو ٹیسٹ لیا گیا، جس آزمائش سے گزار کا ان کو جادوگرنی سمجھا گیا اس آزمائش میں جو عورتیں ہلاک ہوئیں ہیں ان کی تعداد کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔طریقہ سنئے کہ یہاں کیا رائج تھا عورتوں کو جادو گرنی یا نه جادوگرنی قرار دینے کا ، عورت کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اس کو تالاب میں پھینک دیا جاتا تھا۔اگر وہ ڈوب جاتی تھی تو کہا جاتا تھا کہ دیکھو معصوم تھی اس لئے ڈوب گئی اور انسانی سزا سے بچ گئی اور اگر وہ بچ جاتی تھی تو کہتے تھے کہ دیکھو جادو گرنی ہے نا جو بچ گئی اور اس کے نتیجہ میں اسے زندہ جلا دیا جاتا تھا۔ہاتھ پاؤں باندھ کر لٹکا دیا جاتا تھا، پاؤں سے پتھر باندھ دیئے جاتے تھے اور نیچے آگ کا الآؤ روشن کر دیا جاتا تھا اور اس کے نتیجہ میں وہ انتہائی اذیت کے ساتھ جان دیتی تھی۔عورت کا اموال پر کسی قسم کا تسلط تسلیم نہیں کیا جاتا تھا۔سولہویں صدی میں ایسے واقعات بکثرت ملتے ہیں کہ خاوند کو یہ حق تھا کہ جب عورت پر الزام لگائے تو صرف خاوند کا یہ کہنا کافی تھا کہ اس عورت نے فلاں بری حرکت کی ہے اور اس کے نتیجہ میں اسے قتل کر دیا جاتا تھا۔اس کا موازنہ آپ کر کے دیکھیں۔چودہ سو سال پہلے اسلام نے اس بارہ میں کیا تعلیم دی ؟ اسلام نے صرف مرد کو الزام کا حق نہیں دیا بلکہ عورت کو بھی الزام کا حق دیا اور اس کے جواب میں مرد کو بھی حق دیا اور عورت کو بھی حق دیا کہ اگر وہ اسی شدت اسی طریق پر اس الزام کا انکار کرے تو قعطا وہ قابل سرزنش نہیں سمجھی جائے گی۔یا قابلِ سرزنش نہیں سمجھا جائے گا، اگر مرد ہو۔اور وہ دونوں اس الزام سے بری قرار دئیے جائیں گے۔عورتوں کو فیکٹریوں میں روزانہ اٹھارہ گھنٹے کام کرنا ہوتا تھا اور گھر کا کام کاج اس کے علاوہ