اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 33
حضرت خلیفہ امسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات بے منصفوں میں نہ لکھ دینا۔۳۳ خطاب ۲۷/ دسمبر ۱۹۸۳ء حضرت ام المومنین حضرت عائشہ کی ایک روایت حضرت زینب کے متعلق ہے فرماتی ہیں جب آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رخصت کے دن قریب آئے تو حضور نے ایک مرتبہ یہ فرمایا میری ازواج میں سے مجھ سے سب سے پہلے وہ ملے گا جس کے ہاتھ لمبے ہوں گے۔اس پر ہم بیویوں نے ایک دوسرے کے ساتھ ہاتھ ناپنے شروع کئے کہ دیکھیں کس کے ہاتھ لمبے ہیں کون پہلے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے گا۔لیکن وہ کہتی ہیں ہمیں بات کی سمجھ نہیں آئی آپ کی مراد یہ تھی کہ جو بنی نوع انسان کا زیادہ ہمدرد ہے جو زیادہ صدقے اور خیرات دیتا ہے وہی میرے پاس سب سے پہلے آئے گا۔چنانچہ حضرت زینب جب فوت ہوئیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد اُس وقت خواتین مبارکہ اور صحابہ کو سمجھ آئی کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا مراد تھی۔اب یہاں بھی دیکھیں کہ نیکی پر ترجیح دی گئی ہے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل میں بنی نوع انسان کی ایسی محبت تھی ایسا پیار تھا کہ وفات کے بعد وہ پہلی بیوی جو خدا نے آپ کے حضور بھیجی وہ وہی تھی جو صدقہ و خیرات میں سب سے افضل تھی۔بیویاں آپس میں مذاق بھی کر لیا کرتی تھیں اور مذاق کے نتیجے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جس بیوی سے مذاق ہوتا تھا اس کو بچاتے بھی تھے دوسروں سے ، اُس کی دلداری بھی فرمایا کرتے تھے۔کہتے ہیں کہ حضرت سودہ دجال سے بہت ڈرا کرتی تھیں، اس قدر ڈرا کرتی تھیں دجال سے کہ ایک موقع پر بعض ازواج نے مذاقا کہہ دیا کہ دجال آرہا ہے اور دوڑ کر ایک خیمے میں گھس گئیں اور پھر وہاں سے نکلی نہیں۔ازواج مطہرات ہنستی ہوئیں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں کہ یا رسول اللہ ! خوب تماشا ہوا ہے آج۔وہ سورہ دجال کے ڈر کے مارے فلاں خیمے میں گھس گئی ہیں۔آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود وہاں تشریف لے گئے اور دروازے پر کھڑے ہو کر فرمایا دجال ابھی نہیں نکلا یہ سنتے ہی حضرت سودہ بے اختیار ہو کر باہر تشریف لے آئیں وہ ایسے کونے سے لگ کر کھڑی تھیں جب با ہر نکلیں تو ماتھے اور سر پر مکڑی کا جالا بھی لگا ہوا تھا۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو عبادت کیا کرتے تھے تو بعض بیویاں ساتھ شامل ہو جایا کرتی تھیں بعضوں کو ہمت دوسروں سے زیادہ تھی ، بعض نسبتا کمزور تھیں ، حضرت سودہ کی روایت یہ ہے کہ مجھے بھی شوق آیا میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں کھڑی ہوگئی آپ کے رکوع اور