اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 214 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 214

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۲۱۴ خطاب ۲۷ ؍ جولائی ۱۹۹۱ء پس قرآن کریم نے یہ پروگرام ہمارے سامنے رکھا کہ جب تم بدی کو دیکھو تو بدی کی دشمنی تمہارے پیش نظر نہ رہے۔بدی کو حسن میں تبدیل کرنا تمہارا مقصود بن جائے اگر تم ایسا کرو گے تو فرمایا فإذا الذي بينك وبينه عدواة کانه ولی حمیم تم اچانک یہ عجیب ماجرا دیکھو گے کہ وہ جو تمہاری جان کے دشمن تھے وہ تم پر جان نثار کرنے والے دوست بن جائیں گے۔یہ وہ پروگرام تھا جو حضرت اقدس محمد مصطفی ملے کے دل پر جاری فرمایا گیا۔آپ کے اعمال میں ڈھلا اور آپ کے ساتھ وہ جماعت الله پیدا ہوئی جس نے آپ سے یہ رنگ سیکھے اور اس کے نتیجہ میں ایک عظیم روحانی انقلاب برپا ہوا۔پس دلوں کو اکٹھا کرنا بنیادی چیز ہے اس کے بغیر نہ افراد ا کٹھے ہو سکتے ہیں نہ قومیں اکٹھی ہوسکتی ہیں اور دلوں کو اکٹھا کرنے کا کام خدا تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے۔چنانچہ اگر چہ یہ پروگرام مسلمانوں کو دیا گیا لیکن آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا گیا کہ تیرا بھی دلوں پر اختیار نہیں ہے۔اگر اللہ نہ چاہتا اور اللہ دلوں پر تصرف نہ فرما تا تویہ قوم بکھری بٹی ہوئی قوم کبھی ایک ہاتھ پر اکٹھی نہ ہوتی اور ان کے دل کبھی مل نہیں سکتے تھے۔تو دلوں کو ملانے کا کام دوحصوں سے تعلق رکھتا ہے۔ایک اپنے نظریے اور اپنے لائحہ عمل میں ایسی پاک تبدیلی کہ نفرتیں کہ محرکات میں شامل نہ ہوں۔انتقام کو آپ کے پلاننگ میں آپ کے لائحہ عمل میں کوئی دخل نہ ہو اور ایک مقصود ہو کہ جہاں بدی دیکھوں وہاں اس کا حسن تبدیل کرنے کی کوشش کروں۔یہ مرکزی نقطہ ہے اور دوسرا خدا تعالیٰ سے ایسا تعلق کہ اللہ تعالیٰ اس پروگرام میں آپ کا مددگار بن جائے۔کیونکہ اس کوشش کے باوجود آپ دنیا میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کر سکتے جو دلوں کو جوڑنے والی ہو جب تک خدا تعالیٰ کا خاص فضل اور تصرف شامل حال نہ ہو۔جہاں تک پہلے حصے کا تعلق ہے کہ بدی کو دیکھو تو حسن میں تبدیل کرنے کی کوشش کرو۔یہ دیکھنے میں اور سننے میں تو بہت خوبصورت پیغام دکھائی دیتا ہے اور انسان سمجھتا ہے کہ سارے مسئلے حل ہو گئے۔آج کے بعد سے بدی کو حسن میں تبدیل کرنے لگوں گی۔( یعنی خواتین سوچیں گی تو اس طرح سوچیں گی ) تو سارا مسئلہ حل ہو گیا۔دنیا فتح ہوگئی لیکن دنیا تو تب فتح ہو گی جب آپ پہلے اپنے آپ کو فتح کریں گی اور یہ مضمون ذات سے شروع ہوتا ہے اگر انسان اپنی بدیوں سے آنکھیں بند ر کھے اور اپنی بدیوں کو حسن میں تبدیل کرنے کی کوشش نہ کرے تو کیسے ممکن ہے کہ وہ دوسروں پر یہ عمل جاری کر دے اور مشکل یہ ہے کہ انسان سب سے زیادہ اپنی بدیوں سے غافل رہتا ہے اور بعض دفعہ بالا رادہ اور بعض دفعہ بغیر ارادہ کے اپنی کمزوریوں سے آنکھیں بند کرتا ہے اور نہیں دیکھنا چاہتا۔اس لئے نہیں دیکھنا چاہتا