اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 187
حضرت خاین است الرابع" کے مستورات سے خطابات ۱۸۷ خطاب ۲ جون ۱۹۹۰ء ہوں میں جانتا ہوں کہ محض نالیاں بنادینا کافی نہیں۔بعض دفعہ نالیاں راستے میں ٹوٹتی رہتی ہیں یعنی منتظم اپنا حق ادا نہیں کرتے اور پانی رستے ہی میں بکھر جاتا ہے۔بعض دفعہ پانی پہنچا بھی دیں تو کھیت ایسا سوکھا ہوا بے چارہ اور زمین ایسی پیاسی ہوتی ہے کہ ایک ہی جگہ پانی ڈوبتا چلا جاتا ہے پر لے کنارے تک پہنچتا ہی نہیں۔بعض دفعہ لیول ایک نہیں ہوتا اور لیول ایک نہ ہونے کا انسانی مثال میں یہ مطلب ہوگا کہ بعض لوگ تربیت قبول کرنے کے لئے اپنے آپ کو پیش کر دیتے ہیں اور وہ پانی کے بہاؤ کو قبول کرتے ہیں۔بعض ذرا اکھڑ مزاج کے ہوتے ہیں ، سر اُٹھانے والے اس معنے میں کہ وہ اپنے آپ کو تربیت اور تعلیم کے لئے پیش نہیں کرتے۔وہ چھوٹی چھوٹی ڈھیریاں ایسی آپ کو نظر آئیں گی جہاں سارا کھیت بھر گیا مگر ان ڈھیروں تک پانی نہیں پہنچا۔تربیت کوئی آسان کام نہیں ہے۔بہت سلیقے کا کام ہے اور ایک سائنسی طریق پر تربیت کے تمام تقاضے پورے کرنا ایک لمبی تربیت چاہتا ہے اس لئے آپ کو پہلے اپنی بھی تو تربیت کرنی ہوگی کہ کیسے تربیت کی جاتی ہے اور اسی کام پر میں مامور ہوں اس لئے میں آپ کو بار بار یہ باتیں سمجھا تا رہتا ہوں اپنے خطبات کے ذریعہ بھی اور اپنے خطابات کے ذریعہ بھی کہ ہمارا سب سے اہم کام بنی نوع انسان کی تربیت کرنا ہے اور اس تربیت سے پہلے ہمیں اپنی تربیت بھی کرنی ہوگی اور جوں جوں ہم اپنی تربیت کرتے چلے جائیں غیروں کی تربیت بھی کرنی ہوگی یا غیروں میں سے آکر اپنے بننے والوں کی بھی تربیت کرنی ہوگی۔اس مضمون کو میں چونکہ مختلف وقتوں میں بیان کر چکا ہوں بعض پہلو آئندہ پھر بیان کروں گا۔اس وقت خاص طور پر نئے آنے والی احمدیوں کی نسلوں کو سنبھالنے کی حد تک اپنے مضمون کو محمد و درکھوں گا۔اس لئے آپ سب کا جو پاکستان سے تشریف لائی ہیں اور آپ سب میں ان کا خصوصیت کے ساتھ جن کو خدا تعالیٰ نے تربیت کا سلیقہ بخشا ہے ان کی تعلیم بہتر ہے، ان کا مزاج نرم ہے اور خدا تعالیٰ نے دوستی کا مزاج عطا کیا ہے، خصوصیت سے فرض ہے کہ اپنی نئی آنے والی بہنوں کو محبت سے گلے لگائیں ، ان کے لئے بہنا پے کا ماحول مہیا کریں ان کے حضور اپنی صلاحیتیں پیش کر دیں اور ان کو یہ احساس دلائیں اسی لئے میں یہ مثال کہ جس معاشرے سے وہ ٹوٹ کرتارے آپ کی جھولی میں گرے ہیں اس جھولی میں ان تاروں کو زیادہ محبت بخشیں ان کو اس آسمان کی فکر نہ رہے جس سے وہ ٹوٹے ہیں۔آپ کی جھولی کی زیادہ قدر پیدا ہو جائے اور یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب آپ محبت دیں