اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 147
حضرت خلیفہ مسح الرابع" کے مستورات سے خطاب ۱۴۷ خطاب ۱۳ مئی ۱۹۸۹ء زیادہ دے گا۔دوسروں کو کم دے گا۔اتنا ظالمانہ الزام حضرت اقدس رسول کریم ﷺ پر کہ کوئی آدمی سوچ بھی نہیں سکتا وہم و گمان بھی نہیں کر سکتا۔آج اتنے مستشرقین ہیں اسلام پر حملہ کرنے والے، اور سینکڑوں سال سے کر رہے ہیں لیکن ایک ظالم سے ظالم مستشرق کو یہ توفیق نہیں ملی یہ بدبختی نصیب نہ ہوئی کہ حضور اکرم ﷺ پر یہ حملہ کرے کہ مال کی وجہ سے یا امیروں کی وجہ سے وہ اپنے فیصلے بدلتا تھا لیکن اس زمانے میں ایسی توفیق ملی۔اس کا مذہب سے تعلق ہے گہرا، اور قرآن کریم یہ ساری باتیں کھول کر آپ کے سامنے رکھ رہا ہے، کہ یہ ٹھوکریں ہیں اگر تم نے ترقیاں کرنی ہیں، اگر تم نے خدا کی طرف آگے بڑھنا ہے، اگر تم نے خدا کی محبت میں بلند مقامات حاصل کرنے ہیں تو پھر ان گرنے کی جگہوں سے بچ کر چلناور نہ کسی ٹھو کر میں تم آکر ہلاک ہو سکتی ہو یا ہو سکتے ہو۔الله آنحضور ﷺ کے زمانے میں ایک واقعہ ایسا ہے جس کا قرآن کریم میں اشارہ موجود ہے تفصیل نہیں ملتی۔وہ واقعہ یہ ہے کہ جب حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کواللہ تعالیٰ نے مکہ پر فتح نصیب فرمائی اس کے بعد اور بھی مغازی ہوئے ، مقابلے ہوئے غیروں سے اور اسلام کو فتح کے نتیجے میں کچھ دولتیں بھی ملیں۔آنحضرت مہ جب دولت تقسیم کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو آپ نے وہ ساری دنیا کی مال ودولت اور نعمتیں مکے والوں میں اور مہاجروں میں تقسیم کرنا شروع کر دیں، تمام انصار صلى الله خاموش کھڑے رہے کسی کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں آئی کہ نعوذ باللہ رسول کریم ﷺ ان سے کسی قسم کی نا انصافی کر رہے ہیں لیکن ایک بد بخت اس وقت بھی ایسا تھا جس نے اعتراض کیا کہ انصار کی تلواروں سے ابھی بھی خون لگا ہوا ہے یعنی قربانیاں تو انصار نے دیں اور جب دولتیں تقسیم کرنے کا وقت آیا تو اپنے رشتہ داروں میں یعنی مکہ والوں میں تقسیم کر دیں۔اس وقت آنحضرت ﷺ کو شدید تکلیف پہنچی۔آپ نے سب کو اکٹھا کیا اور کھڑے ہو کر ایک بہت ہی دردناک تقریر فرمائی۔انصار کو مخاطب کرتے ہوئے خصوصیت کے ساتھ اور اس میں ایک خاص طور پر درد کا اظہار ملتا ہے وہ ایسا عجیب ہے کہ قیامت تک کے لئے وہ کلام آنحضرت کا ایک خاص شان کے ساتھ ہمیشہ یادر کھا جائے گا۔آپ نے انصار کو مخاطب کر کے بعد میں فرمایا کہ اے انصار! تم نے یہ کیوں نہ سوچا میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ میں مکہ کو چھوڑ کر تمہارے ساتھ چلا جاؤں گا اور ان انصار میں جا کر ساری زندگی بسر کروں گا اور پھر واپس اپنے وطن نہیں رہونگا جو میرا وطن ہے۔اس وقت تم نے یہ نظارہ کیوں نہ سوچا کہ بعض لوگ مال و دولت ہانک کر اونٹوں پر ، گھوڑوں اور گدھوں پر مکے کی طرف لے جارہے ہیں اور خدا کا رسول محمد مصطفی علی