اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 78
حضرت خلیفہ مسیح الرابع " کے مستورات سے خطابات خطاب یکم اگست ۷ ۱۹۸ء وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِى عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ (البقره: ۲۲۹) دَرَجَةً یعنی یہ جو فرمایا تھا کہ ان کو فضیلت دی گئی ہے اسی مضمون کو دوسری طرح یہ بیان فرمایا: وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةً ۚ ان کو ایک قسم کی فوقیت حاصل ہے۔لیکن اس فوقیت کے باوجودان کے حقوق میں کوئی فرق نہیں اور بعینہ مردوں کے حقوق عورتوں کے حقوق برابر ہیں۔چنانچہ فرمایا: وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِى عَلَيْهِنَّ۔عورتوں کے لئے بعینہ وہی حقوق ہیں جو مردوں کے لئے ان پر ہیں بِالْمَعْرُوفِ عام دنیاوی عقل اور مناسبت کے اعتبار سے جو بھی برابرحقوق ہونے چاہئیں میاں بیوی کے وہ دونوں کو اسی طرح ملیں گے۔حالانکہ وہ لِلرجال میں یہاں حالیہ معلوم ہوتی ہے 6699 یعنی یہ بیان کرنے کے لئے کہ باوجود اس کے حالانکہ لِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ۔ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ مردوں کو ایک پہلو سے عورتوں پر ایک فضیلت حاصل بھی ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہر گز نہ لیا جائے اس لئے یہ دہرایا ہے کہ ان کے حقوق میں کوئی فرق پڑ گیا ہے۔پھر فرمایا کہ هُنَّ لِبَاسٌ نَّكُمْ وَاَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ (البقرۃ:۱۸۸)۔تم ایک دوسرے سے حقوق میں اور ذمہ داریوں میں اس طرح بالکل برا بر ہو گو یا تم ان کا لباس ہو اور وہ تمہارا لباس ہیں۔اس کی تشریح کا اس وقت وقت نہیں مگر یہ آیت بہت ہی لطیف مضامین پر مشتمل ہے۔جہاں تک آج کے مضمون کا تعلق ہے اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ لباس کی جتنی بھی ذمہ داریاں ہوتی ہیں ، خاوند کو عورت کے لئے ادا کرنی ہوں گی اور عورت کو خاوند کے لئے ادا کرنی ہوں گی۔پھر فرمایا لَا تُضَارَ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوْلُودٌ لَّهُ بِوَلَدِهِ (البقرہ:۲۳۴) اگر آپس میں اختلاف پیدا ہو جائے، علیحد گیوں کے مواقع پیش آئیں تو فرمایا ہر گز کوئی ایسا فیصلہ نہیں دیا جائے گا جس کے نتیجہ میں والدہ کو اپنے بیٹے کے ذریعہ دکھ پہنچایا جائے۔وَلَا مَوْلُودٌ لَّهُ بِوَلَدِم نہ ہی والد کو اس کے بیٹے کے ذریعہ کوئی دکھ پہنچایا جائے اور اس تعلیم میں بھی دونوں کو بالکل برابر کر دیا۔اس کے مقابل پر اب ہم دیکھتے ہیں کہ دیگر قوموں یا دیگر مذاہب میں عورت کے متعلق کیا ذکر ملتا ہے۔پہلی بات تو اس ضمن میں پیش نظر یہ رہنی چاہئے کہ جب بھی مغربی دنیا میں اس مضمون پر