اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 566
حضرت خلیفہ صیح الرابع" کے مستورات سے خطابات خطاب یکم را گست ۱۹۹۸ء کو نسبتا مختصر کروں اس لئے میں امید رکھتا ہوں کہ اس کوشش میں کامیاب ہو چکا ہوں گا۔سب سے پہلے اسلام کے دور اول کا ذکر ضروری ہے۔حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابیات مہمان نوازی کے میدان میں اکثر مردوں پر سبقت لے گئی تھیں اور تبلیغ کے نتیجے میں جو بکثرت باہر سے وفود آتے تھے یا وہ نو مبائعین جن کو گھروں سے نکالا جاتا تھا ان کی ذمہ داری ادا کرنے میں اولین مسلم خواتین نے غیر معمولی خدمات سرانجام دیں ہیں۔یہی وہ صحابیات ہیں جن کا نمونہ اس دور میں ہم احمدی عورتوں میں زندہ ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں جو دنیا بھر کے ہر ملک میں اس سنت کو زندہ کر رہی ہیں کہ ابتداء اسلام میں جولوگ اسلام لاتے تھے جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے ان کو مجبوراً اپنے گھر بار، اہل و عیال اور مال اور جائیداد سے کنارہ کش ہونا پڑتا تھا۔اس بناء پر بہت بھاری تعداد ان مہاجرین کی مدینے آجایا کرتی تھی جن کی دیکھ بھال کا کوئی با قاعدہ انتظام نہیں تھا سوائے اس کے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں مختلف صحابیوں کے سپر د کر دیا کرتے تھے لیکن بہت سی مسلمان خواتین تھیں جنہوں نے از خود اپنے اوپر یہ کام لے لیا۔ان میں حضرت اُم شریک کا گھر تو ایک ایسا نمونہ تھا کہ وہ تمام گھر نومسلمین اور دیگر تبلیغ کی غرض سے آنے والوں کے لئے ایک کھلا گھر تھا۔جس میں دن رات ہر وقت یہی سلسلہ جاری تھا۔کچھ ضرورت مند ، گھروں سے نکالے ہوئے اور کچھ اسلام میں دلچسپی لینے والے جو مدینے آیا کرتے تھے ان کے لئے انہوں نے اپنا گھر وقف کر رکھا تھا۔یہاں تک حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا خیال تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ بن قیس کو جو ان کی بہن تھیں اس بناء پر عدت بسر کرنے کی اجازت نہیں دی کہ ان کے گھر مہمانوں کی کثرت سے پردے کا انتظام نہیں ہوسکتا۔عدت جو سنت کے مطابق مروجہ ہے اور قرآن میں اس کا ذکر ہے حضرت اقدس محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بناء پر ان کو عدت کی اجازت بھی نہیں دی کیونکہ ایسے گھر میں جہاں کثرت سے لوگوں کا آنا جانا ہو، وہاں عدت گزارنا مشکل ہے۔صحابہ کا یہ طریق تھا کہ مختلف غزوات میں جب وہ شریک ہوتے تھے تو جولوگ ان کی مہمان نوازی کرتے تھے ان کا بھی بہت خیال رکھا کرتے تھے۔صرف یہی نہیں کہ خود مہمان نواز تھے بلکہ جوخود ان کی خدمت کرتے تھے ان کا بھی حق ادا کرنے کے بعد، اس سے بہت زیادہ ان کی خدمت کا جذبہ تشکر ان کے دل میں رہتا تھا اور اس کی ایک عظیم مثال میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔