اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 503 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 503

حضرت خلیفتہ آس الرابع کے مستورات سے خطابات ۵۰۳ خطاب ۲۴ را گست ۱۹۹۶ء معلوم ہوگا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سچ فرماتے ہیں کہ تجھ بن نہیں گزارا ہم نے تو ہر طرف غور کر کے دیکھا تیرے بغیر گزارا ہی کوئی نہیں۔یہ ہوہی نہیں سکتا کہ تیرے سوا ہم کسی اور سے محبت کریں کیونکہ ہر محبت عارضی اور فانی اور بے حقیقت ہے اور قدرتوں سے خالی ہے۔ایک تو ہی ہے جو محبتوں کے سرچشموں پر قادر ہے۔ہر محبت کا سرچشمہ تیرے قبضہ قدرت میں ہے۔پس اگر آپ ذکر الہی کی عادت ڈالیں گی تب آپ کو اللہ تعالیٰ سے محبت ہوگی۔اگر ذکر الہی کی عادت نہیں ڈالیں گی تو ناممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ سے آپ کو محبت ہو جائے اور ذکر الہی کی عادت رفتہ رفتہ پڑا کرتی ہے۔ایک دم نہیں پڑتی۔(یا گرمی زیادہ ہوگئی ہے یا مجھے اچکن کی وجہ سے زیادہ گرمی لگ رہی ہے۔مگر اب وقت تھوڑا رہ گیا ہے اس مضمون کو بہر حال میں نے ختم کرنا ہے۔) حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ در اصل خدا تعالیٰ کی چوکھٹ پر پہنچنے کا ذریعہ شکر ہی ہے“۔شکر کا جب تک جذبہ پیدا نہیں ہوگا۔اس وقت تک آپ اللہ تعالیٰ سے محبت کر نہیں سکتے۔اللہ تعالیٰ کی چوکھٹ تک آپ کی رسائی ممکن نہیں ہے۔لیکن شکر کے وقت انسان کیا کرتا ہے۔ثناء کرتا ہے ،تعریف کرتا ہے، اور خاص طور پر ایسا وجود جس کو آپ کچھ دے نہیں سکتے۔اس کا شکر ثناء کے سوا ممکن ہی نہیں حضرت مسیح موعود نے اس بار یک نقطے کو اٹھایا ہے۔اور امر واقعہ ہے کہ اگر دنیا پہ آپ غور کریں تو وہ سب فقیر جو آپ سے لیتے تو ہیں ، دے کچھ نہیں سکتے وہ جو تعریفیں کرتے ہوئے اور دعائیں دیتے ہوئے گذرتے ہیں تو ان کا اظہار تشکر کا ایک طریق ہے۔اس کے سوا ان کو کچھ نصیب نہیں۔پس جس عالی شان دربار سے آپ کو کچھ ملتا ہے۔آپ واپس کچھ نہیں کر سکتے۔اس کے شکر کا حق سوائے تعریف کے اور ممکن نہیں ہے۔لیکن حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں۔كَيْفَ الوُصُولُ إلى مدارج شكره تثنى عليك وليس حول ثناء ( در متن عربی) کہتے ہیں ہم خدا کا شکر ادا کیسے کریں۔ممکن دکھائی نہیں دیتا کیونکہ ثناء کے سوا شکر ممکن نہیں اور ہمیں تو خدا کی ثناء کی بھی طاقت نہیں۔دن رات اُسکی تعریفیں کریں تب بھی دل تشنہ ہی رہے گا کیونکہ خدا کی تعریف کا کوئی احاطہ نہیں کر سکتا۔یہ جو مضمون ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ، یہ ایک عارف باللہ کا مضمون ہے جو عارف باللہ کے سوا کوئی سمجھ ہی نہیں سکتا۔