اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 493 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 493

حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۴۹۳ خطاب ۲۴ را گست ۱۹۹۶ء کرتی ہیں، کیوں کرتی ہیں؟ اس لئے کہ وہ آپ کے مستقبل کا ضامن ہے۔اس کے اندر رہ کر آپ باقی رہتی ہیں۔تو اگر آپ یہ غور کریں، غیب کے مضمون پر غور کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ آپ کا ماضی بھی خدا کی ذات سے تعلق رکھتا ہے۔آپ کا مستقبل بھی اسی کی ذات سے تعلق رکھتا ہے۔یہ جو بچے آپکو پیارے لگتے ہیں۔ایک وقت ایسا آتا ہے کہ ان کو چھوڑ دیں گی آپ یا ایسا وقت بھی آسکتا ہے کہ بچے آپکو چھوڑ دیں۔تو جس سے پیار بڑھا یا وہ تو وفانہیں کرتا۔وہ تو ساتھ رہ نہیں سکتا۔لازم ہے کہ ایک دن مائیں بچوں کو چھوڑیں یا بچے ماؤں کو چھوڑ دیں۔لازم ہے کہ ماؤں کی زندگی میں بھی ایسا وقت آئے کہ بچے محض فرض کی خاطر ان سے تعلق نبھائیں ورنہ ان کی خواہشات کے رُخ تبدیل ہو چکے ہوں مائیں بوجھ بن گئی ہوں۔بیمار ہوں یا ذہنی مریضہ بن چکی ہوں۔ہر وقت ان کو سنبھالنا اور بہری ہوگئی ہیں تو اونچی اونچی ان سے باتیں کرنا اور ہر وقت پوچھنا کہ تمہیں کیا کرنا ہے کیا کھانا ہے۔بھول جاتی ہیں تو یہ مصیبت کہ ابھی کھانا کھلایا ہے تو پھر ماں آواز دیتی ہے کہ لاؤ کچھ میرے لئے میں نے کھانا نہیں کھایا۔ہزار مصیبتیں ہیں جو ماؤں سے جو بہت پیاری ہوتی ہیں ان سے وابستہ ہو جائیں تو پھر بھی آپ فرض نبھاتے چلے جاتے ہیں۔لیکن بالآخر آپ کے تمام شعور نے آپ کو چھوڑ دینا ہے، آپ کی سب پیاری چیزوں نے آپ کو چھوڑ دینا ہے۔یا آپ نے اپنی پیاری چیزوں کو چھوڑ دینا ہے۔پھر آپ نے کہاں جانا ہے وہ جو غیب ہے۔یعنی اب آپ کی نظر سے غائب ہے ایک یہ معنی بھی غیب کے ہیں۔ایک ایسی دنیا میں آنکھیں کھولنی ہیں جس کا کوئی شعور آپ کو نہیں ہے۔آپ کو علم نہیں کہ وہ کیا ہوگی۔لیکن اگر آپ باقی رہیں گی تو اپنی سب پیاری چیزوں سے جدا ہو کر ایک اور طرف حرکت کر رہی ہیں اور ہر ایک سے جدائی آپ کے مقدر میں ایسے لکھی ہوئی ہے کہ کوئی دنیا کی طاقت اس کو ٹال نہیں سکتی۔لازما ہم نے مرنا ہے، لا زما ہم نے جدا ہو جانا ہے۔پس جس غیب سے آئے تھے اُس غیب کی حقیقت کو تو ہم نے ماضی پر نظر ڈال کے معلوم کیا۔جس غیب میں ہم جا رہے ہیں اس کی حقیقت قرآن ہمیں بتاتا ہے اور فرماتا ہے کہ وہ ایک ایسا غیب ہے جس میں تم اللہ تعالیٰ کے قریب تر ہو جاؤ گے اور خدا کی طرف سے آئے تھے ، اس بات کو اگر تم نے بھلا دیا تو جب خدا کی طرف جاؤ گے تو ایک اجنبی ذات کی طرف جاؤ گے جس سے تم نے کوئی تعلق قائم نہیں کیا۔پس تمہاری جنت جہنم میں تبدیل ہو جائے گی۔اور جو عارضی دنیا کی لذتیں تھیں ان کے بدلے تم نے دائمی جہنم اپنے لئے خرید لی۔یہ وہ مضمون ہے جس کا غیب کی محبت سے تعلق ہے ایمان بالغیب سے