اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 473
حضرت خلیفتہ آس الرابع کے مستورات سے خطابات ۴۷۳ خطاب ۲۷ جولائی ۱۹۹۶ء کرتا ہے اس پر وہ ہمیشہ کے لئے نگران بن جاتا ہے۔اگر ، ماؤں کا بس ہوتا تو وہ ساری ساری رات جاگ کر اپنے بچوں کا دھیان رکھتیں کہ ہر سانس ٹھیک آبھی رہی ہے کہ نہیں کیونکہ بے اختیاری ہے انسان میں طاقت ہی نہیں ہے کہ صحیح وفا کر سکے۔محبت کے دعوے تو ہیں مگر محبت کے تقاضے پورے نہیں کر سکتا اس کی بے اختیاری کی حالت ہے۔اللہ تو کر سکتا ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ مضمون بیان فرمایا۔اس میں بہت ہی عظیم بات ہے اب کیونکہ وقت تھوڑا تھا اس لئے میں نے سوچا کہ ایک ایک شعر کا حوالہ دے کر ہی میں بات کروں گا۔اگر وہ شروع کر دی تو ہو سکتا ہے کہ ایک دو شعروں میں ہی سارا وقت ختم ہو جائے اس لئے میں چند چیدہ چیدہ باتیں میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔سب سے عظیم بات یہ ہے کہ اللہ ہر ایک کے لئے Available ہے۔یعنی دنیا میں تو کبھی آپ نے یہ نظارہ نہیں دیکھا کہ کوئی بدصورت ترین منظر بداخلاق کسی بہت ہی خوبصورت سے محبت کرے اور تقاضایہ کرے کہ تم بھی مجھ سے پیار کرو۔کبھی دنیا میں دیکھا ہے کسی نے کبھی ایسا ممکن ہے؟ مگر اللہ ایسا کرتا ہے اور صرف وہی ہے جو تمہارے اندرونی نقائص کو بھی دیکھ رہا ہے، بیرونی نقائص کو تو دیکھ ہی رہا ہے اور تمہاری اندرونی بدصورتیوں سے بھی واقف ہے اور بیرونی بدصورتیوں سے بھی واقف ہے۔محبت کا ہاتھ بڑھاؤ وہ دس گنا لمبا ہاتھ کر کے تمہارے طرف بڑھے گا یہ الہی محبت کی شان ہے جو انسان کو نصیب نہیں۔وہ جو محرومیوں کے شکار بیٹھے ہیں ان کے لئے اس سے بڑھ کر نجات کا اور خوش خبری کا اور کوئی نسخہ نہیں ہے کہ اپنی محبتوں کے رخ پھیر دیں۔خدا کی طرف محبت کا ہاتھ بڑھا ئیں تو پھر دیکھیں کہ محبت کا ہاتھ کیسے قبول کیا جاتا ہے۔وہ جھکتا ہے کیونکہ ہم اُٹھ نہیں سکتے اور پھر ہمیں لے کر رفتہ رفتہ اُٹھتا ہے ہر رفعت پانے والا انسان خدا کی گود میں اٹھتا ہے۔یہ وہ مضمون ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے یوں بیان فرمایا: سُبْحَنَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا (بنی اسرائیل :۲) یہاں بھی سبحان کا وہ مضمون ہے پاک ہے وہ اللہ دیکھو کس طرح اپنے محد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اپنے پیار کی گود میں لے کر چلا ہے۔اپنی طرف جارہا ہے یعنی ایک رفعت سے بلند تر رفعتوں کی طرف لے جارہا ہے لیکن لے کر چلا ہے۔رستے کا کوئی خطرہ ایسا نہیں جہاں خدا کی حفاظت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نہ تھے۔ایک لمحہ آپ کی گود میں آگے بڑھے اور یہی وہ مضمون ہے جو ہر