اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 460 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 460

حضرت خلیفہ صیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۴۶۰ خطاب ۲۷ جولائی ۱۹۹۶ء کے سامنے کچھ اور ہو جاتا ہے۔مگر اس کے باوجود میں نے ان خطوں کو رد کر دیا کیونکہ میں احمدی بچیوں کے دلوں سے نیک تو قعات رکھتا ہوں اور میں جانتا ہوں کہ وہ اگر بد ہوتیں تو سطحی طور پر ہوتی ہیں دل کی گہرائیوں سے ان کے اندر خدا اور دین کی محبت موجود ہے اور ایک ہی چیز کو دو مختلف زاویوں سے دیکھا جاسکتا ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ بسا اوقات ایک ایسی بچی جو پردے میں غیر محتاط ہو جب مسجد آتی ہے یادین کی مجالس میں شرکت کے لئے آتی ہے تو دکھاوے کی خاطر نہیں بلکہ حیا کی خاطر اپنے دل کی شرم سے وہ اپنے آپ کو چادر میں لپیٹ لیتی ہے اور تمام عرصہ شرمندگی محسوس کرتی ہے اور دکھاوے کے لئے وہاں اس کو آنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ساری دنیا کھلی ہے جہاں چاہے سر اٹھا کر پھرے کوئی اس کو رو کنے والا نہیں۔پس میں اس وقت بھی اس نتیجے پر قائم تھا اب بھی اسی نتیجے پہ قائم ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی بچیاں حدتربیت سے باہر نہیں نکلیں اور جب ایسے معاشرے میں جہاں غیر معاشرے کے اثرات کی شدت ہو اور غیروں کی کثرت ہو ان کو گھومنا پھرنا پڑے ان کو کالجوں سکولوں میں جانا پڑے ان کو دیگر کاموں میں حصہ لینا پڑے تو طبعا ان کے اوپر ایک ایسا حملہ ہورہا ہے جس کو روکنے کے لئے کوئی تربیت کی نظر سامنے نہیں ہوتی۔ماں باپ کو بھی پتہ نہیں کہ وہ باہر نکلتی ہیں تو کیا کر رہی ہیں، کس سے مل رہی ہیں۔عزیز واقارب کی بھی نگاہ نہیں پڑتی کیونکہ وہاں بہت پھیلا ہوا معاشرہ ہے۔احمدی نسبتا کم اور دور دور ہٹے ہوئے۔پس یہ جو علیحدگی کی وجہ سے ایک قسم کی آزادی ملتی ہے اس میں شیطان کو کھل کر کھیلنے کا زیادہ موقع مل جاتا ہے۔یورپ کی اور بات ہے اب انگلستان میں تو کوئی احمدی لڑکی احمدی کی نظر سے بچ کے نکل نہیں سکتی، کوئی دور کے کنارے پر بھی کوئی واقعہ ہو اس کی اطلاع مجھے ملتی ہے اور بر وقت ہم اقدام کرتے ہیں، سنبھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔کئی دفعہ ایسے خاندانوں کو بلواتا ہوں اور بلا استثناء ہمیشہ جب بھی پیار سے انہیں سمجھایا گیا انہوں نے مثبت رد عمل دکھایا ہے اس لئے میرے لئے بدظنی کے لئے کوئی جانہیں کوئی اس کا جواز نہیں کہ میں ان بچیوں پر بدظنی کروں۔اسی طرح وہ ماں باپ جنہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے ان کو دور ہٹتے ہوئے دیکھا ان پر بدظنی تو نہیں مگر تکلیف ان کے متعلق بہت ہے۔انہوں نے اس بے چینی کا وقت پر اظہار نہیں کیا۔جو بے چینیاں جلد ہی بچوں کو سنبھال سکتی تھیں۔وہ بچے جب گودوں میں کھیلتے ہیں اس وقت ان کی ماؤں کے انداز ان کے دل پران کے ذہن پر نقش ہو جاتے ہیں اور جو باتیں مائیں اچھی بجھتی ہیں وہ بچے ضرور اچھی سمجھتے ہوئے بڑھتے