اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 437 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 437

حضرت خلیفت آس الرابع کے مستورات سے خطابات ۴۳۷ خطاب ۸ ستمبر ۱۹۹۵ء عورتوں کو جہنم میں خاص طور پر سے دیکھا جو بالا رادہ اس طرح بن سنور کر نکلتی ہیں کہ لوگوں کی توجہ ان کی طرف پھرے اور ان کی چال پچکیلی ہو جاتی ہے۔ان کی باتوں میں ایسا لوچ ہے کہ وہ گویا دام میں پھنسانے کے لئے نکلتی ہیں اور بظاہر کپڑے پہنے ہوتے ہیں مگر فی الحقیقت ان کے ننگ ان سے ظاہر ہوتے ہیں بلکہ بعض قسم کے کپڑے بعض قسم کے اندرونی حسن کو نکھارنے کے لئے پہنے جاتے ہیں چھپانے کے لئے نہیں۔پس جہاں تک بے پردگی کا تعلق ہے یہ بے پردگی کی بدترین قسم ہے۔پردے کے متعلق تو آپ پوچھتی رہتی ہیں یا میں بتاتا بھی رہتا ہوں کہ پردے کی روح کیا ہے؟ لیکن بے پردگی کو بھی سمجھنا چاہئے کیونکہ اس کے بغیر آپ صحیح پر دے کا تصور باندھ ہی نہیں سکتیں۔قرآن کریم نے جو معاشرہ پیدا فرمایا ہے جس کی تفصیل حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں ملتی ہے اس کی مرکزی روح یہ ہے کہ عورت جو فطرتا سنگھار کرنا چاہتی ہے،خدا تعالیٰ نے اس کو فطر تا نرم بنایا ہے، جاذب نظر بنایا ہے، پرکشش بنایا ہے وہ مزید اضافوں کے ساتھ اس طرح باہر نہ نکلیں کہ Society پر ایک ابتلاء لے آئے اور ہر بری آنکھ اس پر اور بھی بری نیت سے پڑنے لگے۔خواہ ایسی عورت کا مدعا یہ ہو یا نہ ہو کہ لوگ مجھے دیکھیں اور میری طرف مائل ہوں اور میں اسی طرح ان کا جواب دوں لیکن جہاں تک Society میں ایک ہیجان پیدا کرنے کا تعلق ہے، جہاں تک دلوں میں ایک آگ بھڑ کانے کا تعلق ہے یہ عورت اس آگ لگانے میں کامیاب ہو جاتی ہے اور پھر اس کے نتیجے میں بہت سی معصوم عورتیں نقصان اُٹھاتی ہیں کیونکہ ایسی Society جہاں بالا رادہ مردانہ جذبات سے کھیلا جائے اور انہیں انگیخت کیا جائے خواہ وہ انگیخت کرنے والی تیلی لگا کر ایک طرف ہٹ جائے مگر ایسی Society میں پھر عورتوں پر حملے ان کی بے عزتی، ان پر ظلم وستم کی جو واردات ہوتی ہیں ان کی وہ عورتیں ذمہ دار ہیں جنہوں نے Society میں ہیجان پیدا کیا ہے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نقشہ کھینچا ہے وہ بالکل درست ہے آج کل کی دنیا میں بھی جو خصوصیت کے ساتھ پہلے مغربی دنیا میں باتیں پائی جاتی تھیں اب وہ مشرقی دنیا میں بھی اسی زوروشور سے پائی جاتی ہیں۔یہاں تک کہ مغرب اور مشرق کی تفریق اُٹھ گئی ہے۔اس میں جنسی بے راہ روی کا جہاں تک تعلق ہے اس جنسی بے راہ روی میں عورت کا کردار غیر معمولی طور پر نمایاں ہے باوجود اس کے کہ مردوں کا کردار نمایاں دکھائی دے رہا ہے۔اگر ایک ایسی Society ہو جہاں پردے کا احترام ہو، جہاں حیا ہو، جہاں بے وجہ مردوں