اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 422
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۴۲۲ خطاب ۲۸ جولائی ۱۹۹۵ء زیادہ آگے قدم بڑھا کر عام طور پر قبول کی جاتی ہیں۔اگر وہ ایک قدم بے پردگی کی طرف آگے بڑھیں تو لوگ دس قدم اس حوالے سے پھر آگے بڑھ جاتے ہیں اس لئے اُن کی ذمہ داریاں مختلف ہیں اور پھر اس میں مخالف آنکھوں کا بھی تعلق ہے، معاند آنکھوں کا بھی تعلق ہے وہ بد نیتی سے ایسی عورتوں کو دیکھیں اور پھر موقعے کی تلاش میں ہوں کہ ان کی عزت کو کسی طرح داغ لگا ئیں تا کہ ان سے تعلق رکھنے والوں کی عزت بھی مجروح ہو۔یہ وہ مضمون ہے جس کے پیش نظر حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور امہات المومنین کے لئے اور اہل بیت کے لئے خدا تعالیٰ نے نسبتاً زیادہ سخت الفاظ میں پردہ بیان فرمایا ہے لیکن وہاں بھی اس قسم کے برقعے کا ذکر نہیں ہے جو ہمارے ہاں رائج ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ یہ غلط ہے یہ ایک انداز تھا جسے اختیار کیا گیا۔میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اسے تنہا اسلامی نمائندہ پردہ نہیں کہا جا سکتا۔اگر یہ کہیں گے تو اسلام کے آغاز میں جو مسلمان خواتین آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے تربیت پا کر پردے کا نمونہ پیش کرتی تھیں اُن میں یہ برقع آپ کو دکھائی نہیں دے گا تو کیا یہ نتیجہ نکلے گا کہ اُن کو تو پردے کا علم نہیں تھا بعد میں ہندوستان اور پاکستان میں پردے کا حقیقی علم ہوا تو انہوں نے اس کی صحیح صورت پیش کی اس لئے جب میں ایک بات بیان کرتا ہوں تو لازم ہے اس کے سارے پہلو کھول کر آپ کے سامنے رکھوں تا کہ غلط فیصلے نہ کریں۔یہ میں پھر دوبارہ اصرار کرتا ہوں کہ جن کو یہ پردہ ورثے میں ملا ہے اگر انہوں نے بے احتیاطی کی اور اسے یہ عذر رکھ کر اتار پھینکا کہ اسلام کے آغاز میں اس قسم کا برقع نہیں تھا تو وہ اپنے آپ کو بھی شدید نقصان پہنچا ئیں گی، اپنی نسلوں کو بھی شدید نقصان پہنچائیں گی اور ان کی نسلوں سے پھر پردہ اُٹھ جائے گا اس لئے جس صورت حال میں کوئی انسان پکڑا جائے اس کے مطابق موزوں طریق اختیار کر کے اس سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔پس ایک لمبا سفر ہے ایک وقت آئے گا بالآخر جبکہ جماعت احمدیہ کو ایک ہی قسم کا عالمی پردہ پیش کرنے کی توفیق عطا ہوگی جس میں پردے کی روح ہمیشہ ہمیش مد نظر رہے گی اور اسے ہی بنیادی اہمیت دی جائے گی۔مگر جب میں مختلف پردوں پر تبصرے کرتا ہوں تو اس سے ہرگز یہ نتیجہ نہ نکالیں اور پھر میرے حوالے دے کر اپنے نفس کی بھٹکی ہوئی خواہشات کی تسکین نہ کریں کہ انہوں نے کہہ دیا کہ یہ برقع رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانے میں موجود نہیں تھا اس لئے اُتار پھینکو اس کو۔ہرگز میں نے یہ نہیں کہا نہ میں اسے مناسب سمجھتا ہوں پاکستان کے ماحول میں خصوصاً اُن خاندانوں میں جو اقتصادی لحاظ سے اوپر کے مرتبے پر ہیں اس قسم کی حرکت بڑی سخت نقصان دہ ہوگی رفتہ رفتہ مزاج میں