اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 367 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 367

حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات خطاب ۳۰ جولائی ۱۹۹۴ء خوف میں سے ابتلاء ڈال کر، کچھ بھوک کا ابتلاء ڈال کر ، کچھ اموال کے نقصان کے ذریعہ اور کچھ جانوں اور پھلوں کے نقصان کے ذریعہ۔وَبَشِّرِ الصَّبِرِین لیکن صبر کرنے والوں کو خوش خبری دو۔یہ عجیب طرز کلام ہے کہ غم کی خبر کے ساتھ ہی خوشی کی خبر اس طرح ملا دی ہے کہ گویا اس فکر کی بات سے جو بیان کی گئی مومنوں کے دل دہل نہ جائیں۔پس یہاں صبر کی تلقین نہیں فرمائی بلکہ بَشِّرِ الصَّبِرِينَ فرمایا کہ صبر کرنے والوں کو خوش خبری دے دو۔الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُّصِيبَة وه لوگ جو جب بھی ان پر کوئی مصیبت ٹوٹتی ہے کہتے ہیں ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف ہم لوٹ کر جانے والے ہیں۔اولئک علیهم صلوات من ربهم ان پر ان کے اللہ تعالی کی طرف سے سلام اترتے ہیں۔اللہ ان پر درود بھیجتا ہے اور اس کی رحمت نازل ہوتی ہے۔واولئک هم المهتدون یہی وہ لوگ ہیں جو ہدایت یافتہ ہیں۔آپ نے بارہا ان مردوں کے قصے سنے ہیں، وہ تذکرے سنے جنہوں نے خدا کی محبت میں اسی کے پیار میں ہر مصیبت اُٹھائی۔آج کا دن ان خواتین کے لئے وقف ہے جنہوں نے خدا کی محبت میں ہر مصیبت اُٹھائی اور خواتین ہی کے ذکر پر یہ تمام تقریر وقف رہے گی لیکن ذکر بہت لمبا ہے وقت تھوڑا ہے۔کچھ واقعات تو میں بیان کر سکوں گا بقیہ آئندہ کے لئے اٹھارکھوں گا۔واقعہ یہ ہے کہ جب بھی احمدیوں کے خلاف مظالم کی نئی تحریکات شروع ہوئیں مردوں کی قربانیوں کے ذکر تو عموماً ملتے ہیں لیکن عورتوں نے جو اپنی آنکھوں حال دیکھا، جو ان کے دل پر گذری اس کے تذکرے پوری وضاحت کے ساتھ پوری تفصیل کے ساتھ ہمارے ہاں محفوظ نہیں۔چنانچہ میں نے صدر صاحبہ لجنہ اماءاللہ پاکستان سے درخواست کی کہ وہ خصوصیت سے ۷۴ء کے واقعات سے متعلق ان خواتین سے پوچھیں جو خدا کے فضل سے آج بھی زندہ موجود ہیں جن کے گھروں پر یہ مظالم کی داستانیں گزری ہیں، جنہوں نے اپنی آنکھوں سے اپنے خاوندوں، اپنے بھائیوں، اپنے بچوں کو شہید ہوتے دیکھا۔جن کے گھر جلائے گئے ، جن کے سروں سے چادر میں اتار دی گئیں یا خاک آلودہ گھروں کو چھوڑ کر بغیر کسی ساز وسامان کے یہاں تک بغیر جوتیوں کے پیدل گھروں سے نکلیں ، ان کے دلوں پر کیا گزری تھی اور ان پر خود ان پر ایمان کی کیسی کیسی آزمائشیں آئیں اور کس طرح وہ ثابت قدم رہیں۔یہ واقعات محترمہ صدر صاحبہ لجنہ اماءاللہ نے بڑی محنت سے اکٹھے کروائے اور ان کی صحت کے متعلق بھی بہت احتیاط برتی گئی ہے۔کچھ خواتین باہر چلی گئی ہیں ان کے متعلق ان لوگوں نے بیان کیا ہے جو وہاں موجود ہیں۔مگر انشاء اللہ تعالیٰ اللہ کے