اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 358
حضرت خلیفہ مسح الرائع کے مستورات سے خطابات ۳۵۸ خطاب ۱ار تمبر ۱۹۹۳ء صاحبہ وفات پاچکی ہیں۔چنانچہ اسی خواب کی بناء پر پھر مجھے بھی ان کے غسل میں شامل ہونے کی اجازت دی گئی۔محترمہ کاوش صاحبہ اپنی والدہ محترمہ عطیه با جره زوجه سید محمود احمد صاحب خادم مسجد دار البرکات کے متعلق لکھتی ہیں کہ جب حضرت خلیفہ اسیح الثالث اسلام آباد گئے تو بالکل صحت مند تھے لیکن ان کی والدہ عطیہ ہاجرہ نے ان سے کہا کہ دُعا کرو کہ حضور اسلام آباد نہ جائیں۔بار بار وہ یہ کہتی رہیں اور بار بار میں اُن کو سمجھاتی رہی کہ یہ دین کی خاطر سفر ہے آپ کیسی باتیں کر رہی ہیں۔میں کیوں ایسی دُعا کروں لیکن وہ بہت پریشان تھیں اور کہتی تھیں دُعا کرو کہ وہ نہ جائیں۔آخر کچھ عرصے کے بعد وہ کپڑے ہی رہی تھیں کہ بے اختیار رونے لگیں اور کہا کہ اب حضور واپس نہیں آئیں گے۔معلوم ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے اسی وقت کشفی نظارہ آپ کو دکھایا تھا کہ وہ رویا جو پہلے دیکھی وہ پوری ہو چکی ہے کہتی ہیں میں نے ابھی یہ نظارہ دیکھا ہے کہ حضور سفید چولا پہنے ہوئے ہیں سفید اور نیلی رنگ کی لائنوں والی اچکن پہنی ہوئی ہے سفید پگڑی باندھی ہوئی ہے لیکن پگڑی کا پتو گردن کے گرد اس طرح ڈالا ہوا ہے کہ جیسے انسان کو سانس میں دقت پیدا کر دے اور تکلیف پہنچے ہسپتال کے چکر لگا رہے ہیں۔اس سے اگلے دن ہی حضور کو ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ جو سانس کی تکلیف تھی اس کی جو کیفیت دکھائی گئی تھی بعینہ ویسی ہی بیماری کا حملہ ہوا۔یہ بیان کرتی ہیں اپنی والدہ کے متعلق کے وہ خدا کے فضل سے بہت دُعا گو تھیں بہت غریب لیکن بہت متوکل اور نمازوں کی رسیا۔کہتی ہیں ایک دفعہ کو ٹھے پر میں گئی سردیوں کا موسم تھا شدید سردی تھی۔والدہ وہاں نماز پڑھ رہی تھیں لیکن جسم اتنا گرم تھا کہ ہاتھ لگانے سے اس کا سیک لگتا تھا اور پسینے سے شرابور تھا۔میں نے ان سے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے تو انہوں نے کہا ابھی فرشتے مجھ سے باتیں کر رہے تھے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ اس جلسے پر بہت لوگ آئیں گے اور بڑے بڑے لوگ بیعت بھی کریں گے چنانچہ اس کا یہ اثر ہے کہ میرا جسم ایک دم گرم ہو گیا ہے چنانچہ کہتی ہیں کہ واقعہ اس جلسے پر بکثرت لوگ آئے اور یہ نشان ہمیں دکھایا گیا کہ والدہ کی خواب یعنی تجربہ وہمی نہیں تھا کہ ان کے عزیزوں میں رشتہ داروں میں ایک بڑا آدمی جو بہت مخالف تھا وہ اس جلسے پر آیا اور اس نے بیعت کر لی تو اس طرح خدا تعالیٰ نے اس خاتون کی سچائی کا ایک ظاہری گواہ بنا دیا۔ہاجرہ بیگم صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ میرے والدین اور میرے سسرال غیر احمدی تھے۔کہتی ہیں میری دو بیٹیاں تھیں اور بیٹا کوئی نہ تھا۔سب کو اس بات کا شوق تھا کہ اللہ تعالیٰ بیٹا دے۔غیر احمدی