اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 286 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 286

۲۸۶ خطاب ۱۲ ستمبر ۱۹۹۲ء حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات لنگر خانے کے اخراجات کیسے چلا کرتے تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں۔اس کے متعلق ایک واقعہ جس میں حضرت اماں جان کی عظیم قربانی بھی شامل ہے۔آپکو سناتا ہوں۔ایک دفعہ جلسہ سالانہ کے موقع پر خرچ نہ رہا۔ان دنوں جلسہ سالانہ کے لئے چندہ الگ نہیں آیا کرتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس جو کچھ ہوا کرتا تھا وہ خرچ کرتے چلے جاتے تھے۔کچھ باہر سے احمدی محبت کرنے والے تحائف بھیجوا دیا کرتے تھے کچھ خاص ضروریات کے پیش نظر معین رقمیں پیش کر دیا کرتے تھے لیکن کوئی باقاعدہ جلسہ سالانہ کے لئے الگ رقم کہیں محفوظ نہیں ہوا کرتی تھی تو ایسی حالت میں میر ناصر نواب صاحب نے جو انتظام لنگر خانے کا کیا کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ رات کو مہمانوں کے لئے کوئی سالن نہیں ہے یعنی اندازہ کریں کس قدر غربت کا حال تھا اس زمانے میں کہ روٹی کے لئے انتظام تھا لیکن سالن کے لئے مہمانوں کے لئے کوئی انتظام نہیں تھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے فرمایا کہ بیوی صاحبہ سے ( یعنی حضرت اماں جان کو اس وقت بیوی صاحبہ کہا جاتا تھا ) کہ زیور لے کر جو کفایت کر سکے فروخت کر کے سامان کرلیں۔میر ناصر نواب صاحب کی بیٹی تھیں حضرت اماں جان۔تو کہا گھر جاؤ، اپنی بیٹی کا زیور پکڑو اور تمہیں کیا چاہئے۔چنانچہ وہ گئے اور حضرت اماں جان کا زیور فروخت یا رہن کر کے روپیہ لے آئے اور مہمانوں کے لئے سامان بہم پہنچا دیا۔اس کے بعد پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں عرض کیا کہ آج کا گزارہ تو ہو گیا کل کیا بنے گا۔آپ نے فرمایا کل کا میرا خدا حافظ ہے۔تم کیا سمجھتے ہو کہ اسی طرح گزارے چلنے ہیں۔خدا نے ضمانت دے رکھی ہے وہی ہے جو انتظام کرے گا۔اور دوسرے دن اتنے منی آرڈ راکٹھے ملے کہ سب حیران رہ گئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے پھر کسی قسم کی روک پیدا نہیں ہوئی۔تو یہ جو اچانک سامان کی فراہمی میں انقطاع ہوا یہ غالبا خدا تعالیٰ نے اسی لئے کیا کہ حضرت اماں جان کو ایک غیر معمولی قربانی کی توفیق بھی مل جائے اور آئندہ آنے والی احمدی خواتین کے لئے ایک پاک نمونہ ہمیشہ کے لئے قابل تقلید باقی رہ جائے۔حضرت سیدہ ام ناصر حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی والدہ کا بھی بڑی محبت اور جذ بہ تشکر کے ساتھ حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے ذکر فرمایا۔وہ فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے میری بیوی کے دل میں اس طرح تحریک کی جس طرح حضرت خدیجہ کے دل میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدد کی