اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 265
حضرت خلیفت صیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۲۶۵ خطاب یکم اگست ۱۹۹۲ء واقفین زندگی کی بیگمات اور دوسری احمدی خواتین کی بے مثال قربانیاں (جلسہ سالانہ مستورات برطانیہ سے خطاب فرمودہ یکم اگست ۱۹۹۲ء) تشہد ، تعوذ وسورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: آج کے دوسرے اجلاس میں جماعت احمدیہ کی عمومی کارکردگی کا جو تمام عالم سے تعلق رکھتی ہے کچھ جائزہ پیش کیا جائے گا۔اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جماعت اب ترقی کے ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے کہ اگر ایک دن کی ترقی سے متعلق بھی تفصیل سے کچھ بیان کیا جائے تو چند گھنٹوں کے بس کی بات نہیں بلکہ اس سے زیادہ وقت درکار ہوگا۔روزانہ جماعت کی ترقی اور حالات کے متعلق مجھے جو رپورٹیں ملتی ہیں اور کثرت سے جو اطلاعات ملتی ہیں۔ان کی تفصیل پڑھنے ہی میں مجھے گھنٹوں لگ جاتے ہیں۔اور اگر ان کو مضمون کے لحاظ سے سجا کر تقریر میں پیش کیا جائے تو اس سے بھی زیادہ وقت درکار ہے۔اس لئے جو کچھ بھی پیش کیا جائے گا۔بہت محنت کے بعد خلاصہ نکال کے، کچھ اعداد وشمار میں ڈھال کر ، کچھ واقعات میں سے چھان بین کے بعد چند ایک چن کر آپ کے سامنے رکھے جائیں گے اور سالہا سال سے یہی دستور چلا آ رہا ہے لیکن اس سارے ذکر میں خواتین کا کوئی ایساذ کر نہیں ملتا جس سے دنیا کو یہ علم ہو کہ احمدی خواتین کی قربانیوں کا ان کوششوں میں کیا دخل ہے جو اسلام کے احیائے نو کے لئے جماعت احمد یہ عالمگیر بجالا رہی ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اس کثرت سے اسے میٹھے اور دائمی پھل لگ رہے ہیں۔اس مضمون کا خیال مجھے اپنی اہلیہ کی وفات پر آیا جب میں نے ایک اور واقف زندگی کی بیگم جو