اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 16 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 16

حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۱۶ خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۲ء در پیش تھا جس میں رومیوں کی تعداد بہت زیادہ تھی اتنی کثیر تعداد تھی کہ خطرہ تھا کہ مسلمانوں کے پاؤں نہ اکھڑ جائیں۔وہاں مسلمانوں نے ایک نقاب پوش زرہ بکتر میں بند سوار کو اس حالت میں دیکھا کہ وہ پلٹ پلٹ کر دشمن کی فوج پر حملے کر رہا ہے اور جدھر جاتا ہے کشتوں کے پشتے لگادیتا ہے صفیں چیر دیتا ہے اور پھر دوسری طرف سے صفیں چیرتا ہوا واپس نکل آتا ہے۔چنانچہ مسلمان لشکر نے آپس میں باتیں شروع کیں کہ یہ تو ہمارے سردار خالد بن ولید کے سوا کوئی نہیں ہوسکتا۔سیف اللہ کے سواء اللہ کی تلوار کے سوا کس کی شان ہے کہ اس شان کے حملے کرے۔اتنے میں انہوں نے دیکھا کہ خالد بن ولید خیمے سے باہر آرہے ہیں بڑا تعجب ہوا۔انہوں نے کہا اے سپہ سالار! یہ کون ہے اگر آپ نہیں ہیں؟ انہوں نے کہا مجھے بھی پتہ نہیں۔میں تو پہلی دفعہ اس قسم کا جو ان دیکھ رہا ہوں۔چنانچہ اس حالت میں آخر وہ جوان واپس لوٹا جس کو وہ سب جوان سمجھ رہے تھے کہ خون سے لت پت تھا اور اس کا گھوڑا بھی دم توڑنے کو تیار تھا پسینے میں شرابور ، وہ اترا تو خالد بن ولید آگے بڑھے۔انہوں نے کہا اے اسلام کے مجاہد ! بتا تو کون ہے؟ ہماری نظریں ترس رہی ہیں تجھے دیکھنے کے لئے اپنے چہرہ سے پردہ اتار۔اس نے سنی ان سنی کر دی۔نہ زرہ اتاری نہ پردہ اتارا۔خالد بن ولید حیران ہو گئے کہ اتنا بڑا مجاہد اور اطاعت کا یہ حال ہے۔انہوں نے پھر تعجب سے کہا کہ اے جوان ! ہم تو ترس رہے ہیں تجھے دیکھنے کے لئے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرنے کے لئے چہرے سے پردہ اُتار۔اس نے کہا اے آقا! میں نافرمان نہیں ہوں لیکن مجھے اللہ کا حکم یہ ہے کہ تو نے پردہ نہیں اتارنا۔میں عورت ہوں میرا نام خولہ ہے اور انہوں نے پردہ نہیں اتارا۔بعض عورتیں کہتی ہیں کہ جی گرمی بہت ہے۔مردوں کو کیا فرق پڑتا ہے وہ جس طرح مرضی نکل جائیں ہم برقع میں کس طرح رہیں گرمی ہے۔حالانکہ یہ بات نہیں ہے مجھے اپنا تجربہ ہے کہ خصوصاً دیہاتی علاقوں میں جب جانا پڑتا ہے باہر تو چھوٹی دیواروں والی مسجدیں ، چھت قریب ہوتی ہے، گرمیوں کا زمانہ بھی کوئی نہیں ہوتی ، اچکن کے بٹن اوپر تک بند کرنے پڑتے ہیں یوں لگتا ہے کہ آدمی Steam ہو رہا ہے۔یعنی بھاپ کے اندر پکایا جارہا ہے۔مجبوریاں ہیں عادت نہیں ہے پھر بھی کرنا پڑتا ہے۔تو یہ بات تو نہیں ہے کہ مردوں کو کبھی ایسی تکلیفوں کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔مگر ایک پرانے زمانہ کی ، ابتدائے اسلام کی ایک عورت کا بھی میں آپ کو واقعہ سناتا ہو۔آپ کو تو برقعے میں گرمی لگتی ہے۔حضرت سمیہ کا یہ حال تھا کہ جب وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائیں تو اس جرم کی سزا میں