اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 180
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۱۸۰ خطاب ۲ جون ۱۹۹۰ء نہ کرو ہم ایسے رہیں گی جیسے ہم نے خاوند کبھی کیا ہی نہیں تھا اور تم بھی بغیر بیوی کے گزارہ کرنا سکھو اور اسلام کی خاطر میں اپنا سہاگ بھیجتی ہوں تم اپنی ازدواجی زندگی کی لذتیں چھوڑ دو۔چنانچہ ایسے واقعات ہوئے کہ تبلیغ کی خاطر نکلنے والے احمدی بعض دفعہ ۲۳-۲۳ سال اپنی بیویوں سے اور بچوں سے علیحدہ رہے۔ایک موقع پر انڈونیشیا میں ایک تبلیغ کرنے والے احمدی مولوی رحمت علی صاحب جب بالآخر واپس آئے تو تقریباً مختلف وقتوں میں علیحدہ رہتے ہوئے ان کی علیحدگی کا زمانہ ۲۳ سال ہو چکا تھا جو بچے انہوں نے پیچھے چھوڑے تھے وہ جوان ہو چکے تھے اور ۲۳ سال سے چند سال جو پہلے پیدا ہوئے تھے تو ان میں سے کوئی ۲۵ کوئی ۳۰ سال کے قریب پہنچ گیا تھا۔بیوی بوڑھی ہو چکی تھی چنانچہ وہ بیوی حضرت مصلح موعود کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے کہا میرے آقا میرے خاوند کی جدائی میں میرے بال سفید ہو چکے اور میں خوش ہوں کہ میری جوانی اسلام کی خاطر قربان کر دی گئی ہے میں ناراض نہیں ہوں لیکن میری اب یہ درخواست ہے کہ میری اس جوانی کی قربانی کو زندہ رکھنے کی خاطر اس کو دوام بخشنے کی خاطر میرے اس بوڑھے خاوند کو جو میرے اب کسی کام کا نہیں اور نہ میں اس کے کام کی ہوں اس کو واپس میدان میں بھیج دیں۔مجھے یہ تو اطمینان ہوگا کہ میرا خاوند خدا کی خاطر جہاد کرتے ہوئے مجھ سے دور مارا گیا۔جو دن اس کے قریب رہنے کے تھے وہ تو گزر چکے ہیں۔یہ وہ دور تھا، یہ وہ احمدیت کی خاطر قربانی کرنے والی جماعت تھی جو ساری دنیا میں تنہا اسلام کے نام پر لڑ رہی تھی۔یہی حال افریقہ میں کام کرنے والوں کا تھا اور یہی حال پیسیفک آئی لینڈ منی میں کام کرنے والوں کا تھا۔کچھ لوگ روس گئے خدمت دین کے لئے اور پھر واپس نہیں آئے ، کچھ واپس اس طرح آئے کہ دکھ اُٹھا اُٹھا کر وہ پاگل ہو چکے تھے۔پاگل کے طور پر ان کو روس کی سرحدوں سے باہر پھینک دیا گیا۔یہ وہ اسلام ہے جو قرآن نے ہمیں سکھایا اور متنبہ کیا کہ دین قربانیوں سے زندہ ہوا کرتے ہیں۔دین روپیہ لے کر نہیں بلکہ خدا کی راہ میں روپیہ دے کر زندہ ہوا کرتا ہے۔دین جانیں لے کر نہیں بلکہ اپنی جانیں خدا کے حضور پیش کرنے کے ذریعے زندہ ہوا کرتے ہیں اور ہمیں کامل یقین تھا اور آج بھی یقین ہے کہ ہم صحیح راستہ پر تھے کیونکہ حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی تو یہی دین سکھایا تھا اور اسی طرح دین کو فروغ دیا تھا کیونکہ آپ سے پہلے عیسی نے بھی یہی دین سکھایا تھا اور اسی طرح دین کو فروغ دیا تھا اور آپ سے پہلے حضرت اسماعیل" ، حضرت داؤد نے اور حضرت سلیمان اور