اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 122
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کےمستورات سے خطابات ۱۲۲ خطاب ۲۳ جولائی ۱۹۸۸ء معاملہ میں بحثیں کرتی ہے مگر شکایتیں تجھ سے نہیں کرتی ، شکایتیں اپنے رب سے کرتی ہے وَاللهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا إِنَّ اللهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ (المجادلہ:۲) اور اللہ تمہاری گفت و شنید کو خوب سنتا ہے، جانتا ہے کہ کیا گفتگو چلی اور وہ خوب سننے والا ، اور خوب جاننے والا ہے۔پس اس عورت کی وہ شکایت جو رات کو اس نے اپنے رب سے کی وہ خدا نے سنی ، اس کو قبول فرمایا اور آنحضرت کو اس کے متعلق نصیحت فرمائی اور ہمیشہ کے لئے قرآن میں یہ پیغام دے دیا کہ اگر تم اپنے خاوندوں سے نالاں ہو، تمہیں ان سے شکوے ہوں ،ضرور قضاء میں پہنچو اور اپنے حقوق لینے کی کوشش کرو لیکن قضاء پر بناء نہ کرو۔تمہارا ایک خدا ہے جو مردوں سے کم تمہارا خدا نہیں وہ تمہارے لئے اسی طرح غیرت رکھتا ہے اور تمہاری تکلیف کا اسی طرح احساس رکھتا ہے جس طرح مردوں کی تکلیف کا احساس رکھتا ہے پس وہ کچھ جو قضاء تمہارے لئے نہیں کر سکے گی وہ خدا تمہارے لئے کرے گا اگر تم خدا سے دعائیں مانگو اور خدا سے التجائیں کرو۔آخر پر ایک مثال میں رکھتا ہوں۔روایات تو بے شمار ہیں اور اس مضمون پر جب آپ احادیث کا مطالعہ کریں گی تو آپ دیکھ کر حیران ہوں گی کہ کس قد ر عورت کو عظمت اور عظیم مقام عطاء فرمایا گیا ہے لیکن قرآن کریم کی ایک آیت آپ کے سامنے رکھتا ہوں جس میں عورت کو ایک ایسا مقام عطاء فرمایا گیا ہے جو تمام دنیا کے مذاہب میں نہ صرف بے مثل بلکہ اس طرح درخشندہ اور چمکتا ہوا ہے کہ اس کے پاسنگ کو بھی کسی اور مذہب کی تعلیم نہیں پہنچتی۔فرمایا: وَضَرَبَ اللهُ مَثَلًا لِلَّذِينَ آمَنُوا امْرَأَتَ فِرْعَوْنَ إِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَنَجِنِي مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِ وَنَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَنَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيْهِ مِنْ رُّوحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهِ وَكَانَتْ مِنَ الْقَنِتِينَ (التحریم:۱۳،۱۲)