اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 77 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 77

حضرت خلیفہ مسیح الرابع " کے مستورات سے خطابات LL خطاب یکم اگست ۱۹۸۷ء اُن کو اپنے بستروں میں کچھ عرصہ کے لئے الگ چھوڑ دو۔اب بستروں میں جو الگ چھوڑا جائے عورتوں کو تو اس کے متعلق یہ وہم کر لینا کہ یک طرفہ سزا ہے بڑی بے وقوفی ہے۔بسا اوقات یہ ممکن ہے کہ بستر میں الگ چھوڑ نے کے نتیجہ میں عورت تو امن میں آجائے کہے کہ شکر ہے خدا کا یہ ہو گیا۔میں تو پہلے ہی تنگ آئی بیٹھی تھی اس سے اور مرد کو سزاملنی شروع ہو جائے اور واقعتا یہی ہوتا ہے۔تو قرآنی تعلیم کا عجیب کمال ہے کہ بغیر مرد کو بتائے کہ ہم کیا کر رہے ہیں تمہارے ساتھ اس کو ایک ایسے عمل پر مجبور کیا ہے جس کے نتیجہ میں اس کا، غصہ کے ٹھنڈا ہونے کا ہر امکان پیدا ہو جاتا ہے۔نصیحت کے باوجود عورت نہیں سن رہی اور ہاتھ کھولنے کی پھر بھی اجازت نہیں دی۔فرمایا! کچھ دیر علیحدگی اختیار کرو۔جب علیحدگی اختیار کرو گے تو انسانی جذبات ہیں وہ اعتدال پر آجاتے ہیں۔کئی قسم کی دل میں تحریکات پیدا ہوتی ہیں ، محبت عود کر آتی ہے اور ہر نفسیاتی پہلو اس بات کا پیدا ہو جاتا ہے کہ مرد شرمندہ ہو اپنے پہلے رویہ سے یا عورت کو خیال آئے کہ مجھ سے روٹھ گیا ہے چلو بس کریں، اب لڑائی جھگڑا ختم کر دیں۔فرمایا اُس کے باوجوداگر پھر بھی عورت اپنے سابقہ بدخلقی کے رویے پر قائم رہے اور ہاتھ اُٹھانے یا ، تمہارے خلاف یا بغاوت کرنے میں پہل کرتی رہے وَاضْرِبُوهُنَّ پھر اُن کو مارو۔اس کے سوا اور کیا تعلیم ہوسکتی تھی۔اسے کوئی بدل کر دکھائے۔خدا یہ کہتا کہ پھر پولیس کے حوالے کر دو حوالات میں پہنچا دو؟ یعنی جہاں عائلی زندگی کی حفاظت کی جاتی ہے وہاں مرد کو تو دوسروں کے سپرد کیا جاسکتا ہے مگر عورت کو سپر د کرنا اس کے لئے سب سے بڑی تذلیل ہے اور اس سے بہتر کوئی اور ذریعہ ہی نہیں بجائے اس کے کہ یہ کہا جائے کہ مردوں کو بلاؤ محلے کے وہ ماریں تمہاری بیوی کو یا پولیس کے سپرد کرو وہ ڈنڈے چلائیں۔فرمایا ! کہ ان سب باتوں کے باوجود پھر تم فیصلہ کرنے کے مجاز ہو گئے ہو کہ خدا کی طرف سے پھر اُس حد تک اس سے سختی کرو کہ اُس کی اصلاح ہو۔لیکن کن شرطوں کے ساتھ ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بیان فرما ئیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی جو تعلیم ہے وہ میں نے بعد میں اکٹھی کر دی ہے۔اس لئے وہ مخصوص حدیث جس کی طرف میری توجہ مبذول ہوئی تھی اب وہ تلاش کرنی پڑے گی اس لئے میں بعد میں بیان کر دوں گا۔بہر حال اسلامی تعلیم کا جو خلاصہ ہے اس آیت کی رو سے وہ میں نے آپ کے سامنے رکھ دیا اور جو یہ کہا جاتا ہے کہ اس میں عدم مساوات کی تعلیم ہے یہ بالکل غلط اور بے بنیاد اور قرآن کریم کی دوسری آیات کے مضمون کے بالکل منافی ہے۔چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے۔