اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 660
حضرت خلیفہ مسح الرابع" کے مستورات سے خطابات میں سے جو تمہارے دروازے کے زیادہ قریب ہے۔خطاب ۲۹ جولائی ۲۰۰۰ء اسی طرح ایک اور روایت بخاری کتاب الزکوۃ میں حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی نے آپ سے پوچھا کہ ہم میں سے کون سب سے پہلے آپ سے آن ملے گی۔آپ نے فرمایا تم میں سے سب سے پہلے زیادہ لمبے ہاتھوں والی مجھے ملے گی۔چنانچہ انہوں نے ایک کا نالیا اور اپنے ہاتھ ماپنے لگیں۔حضرت سودہ کے ہاتھ سب سے لمبے نکلے۔بعد میں پتہ چلا کہ لمبے ہاتھوں سے مراد صدقہ دینا تھا اور ہم میں سے سب سے پہلے حضور کو ملنے والی حضرت زنیب تھیں جوام المساکین کہلاتی تھیں۔ان کو صدقے دینے کا بہت شوق تھا۔ایک اور روایت حضرت عائشہ صدیقہ سے بخاری کتاب الجنائز میں مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے کہا میری ماں اچانک فوت ہوگئی ہے۔مجھے یقین ہے کہ اگر وہ کلام کر سکتی تو ضر ورصدقے کا حکم دیتی۔اب اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا اسے اجر ہوگا۔آپ نے فرمایا ہاں۔ایک روایت ابو داؤد میں حضرت عمرو بن شعیب اپنے دادا کے واسطے سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت اپنی بیٹی کو ساتھ لے کر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی۔اس کی بیٹی نے سونے کے بھاری کنگن پہنے ہوئے تھے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت سے پوچھا کیا اُن کی زکوۃ بھی دیتی ہو۔اس نے جواب دیا نہیں یا حضرت! آپ نے فرمایا کیا تو پسند کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تجھے آگ کے کنگن پہنائے۔یہ سن کر اس عورت نے اپنی بیٹی کے ہاتھ سے کنگن اُتار لئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے عرض کیا کہ یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لئے ہیں۔یہ روایت پہلے بھی بیان ہو چکی ہے اور جب بھی میں بیان کرتا ہوں عموماً عورتیں اپنے کنگن زیور وغیرہ پیش کر دیا کرتی ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو جاری رکھتے ہوئے تو اس کو بیان کرتے ہوئے اب میرے دل میں کچھ تر ڈوسا تھا کہ کچھ عورتیں اپنے پاس بھی رکھیں بارہا پیش کر چکی ہیں۔اتنے کہ بہت سی مساجد گواہ ہیں کہ خالصہ عورتوں کے زیور اور کنگنوں سے بنائی گئی ہیں تو اللہ تعالیٰ آپ سب کو جزائے خیر دے کہ آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کی خواتین کی سنت کو اس دور میں بھی زندہ رکھا ہوا ہے۔ایک روایت بخاری کتاب العلم میں ہے کہ حضرت عطاء تابعی بیان کرتے ہیں کہ میں نے