اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 630 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 630

حضرت خلیلتہ امسح الرابع کے مستورات سے خطابات ۶۳۰ خطاب ۳ جون ۲۰۰۰ء اب دیکھیں آپ سب کا تعاون ہے نظام جماعت کے ساتھ جس نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے سب دنیا میں جماعت کو حیرت انگیز ترقیاں عطا فرمائیں۔کسی اکیلے آدمی کا کام نہیں۔ہر بات میں وہ دوسرے کے تعاون کا محتاج ہے۔ہر ایک گروہ جس کا مدعا اور مقصد ایک ہی مثل اعضاء یک دیگر ہے ان کا آپس میں گویا تعاون ضروری ہے اور ممکن نہیں کہ جو کوئی فعل جو مطلق غرض مشترک اس گروہ کے ہے بغیر معاونت با ہمی ان کے ان کی کہ با خوبی با خوش اسلوبی طے پا سکے۔بالخصوص جس قدر جلیل القدر کام ہیں۔یعنی بہت عظیم الشان کام کرنے ہوں جن کی علت غائی کو فائدہ عظیمہ جمہوری ہے“ جن کی علت غائی کوئی فائدہ عظیمہ جمہوری ہے مطلب ہے جو بڑے بڑے کام کرنے ہوں جو کثرت سے عوام الناس کے فائدے سے تعلق رکھتے ہوں یعنی جمہور کے فائدے سے تو بجز جمہوری عیانت کے کسی طور پر بھی انجام پذیر نہیں ہو سکتے۔فائدہ جمہور کا ہے پیش نظر اور جب تک وہ جمہور خود تعاون نہ کریں ان کو فائدہ نہیں پہنچایا جاسکتا۔صرف ایک ہی شخص ان کا متحمل ہرگز نہیں ہوسکتا اورنہ کبھی ہوا انبیاء علیہم السلام جو تو کل اور تفر یدا و حمل اور مجاہدات کے افعال خیر میں سب سے بڑھ کر ہیں ان کو بھی یہ با رعایت اسباب ظاہری مَنْ أَنْصارِی إِلَی اللہ کہنا پڑتا ہے۔“ خدا کے کہنے پر نبی کھڑے ہوتے ہیں اور اگر اللہ چاہے تو اکیلے نبی ہی سب مخالفتوں پر غلبہ پالیں کیونکہ خدا کا ان سے وعدہ ہے وہ بہر حال غلبہ پائیں گے لیکن اس کے باوجود جیسا کہ حضرت عیسی علیہ الصلواۃ والسلام نے آواز بلند کی تھی۔مَنْ أَنصَارِ إِلَی اللہ کون ہے؟ جواللہ کی خاطر میرا مددگار بنے۔اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فیض ہی تھا کہ سب خدمت کرنے والے اور تعاون کرنے والے اکٹھے ہوئے لیکن یہ آپ کی دعاؤں کا فیض تھا جس کے نتیجہ میں وہ تعاون حاصل ہوا مگر تعاون تو بہر حال ہوا۔اس کے بغیر تو اکیلا شخص دنیا میں عظیم انقلاب بر پا نہیں کر سکتا اگر چہ اس کا سبب اس کی دعائیں ہی ہوں لیکن بہر حال اس کو دنیا کا تعاون حاصل ہونا ضروری ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔دیکھو وہ جماعت جماعت نہیں ہوسکتی جو ایک دوسرے کو کھائے اور جہاں چارمل کر بیٹھیں تو ایک اپنے غریب بھائی کا گلہ کریں اور نکتہ چینیاں کرتے