اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 629
حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۶۲۹ میں بھیجنے والا تو میں ہی ہوں تو کون ہے؟“ اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ہو جاؤں۔“ خطاب ۳/ جون ۲۰۰۰ء سو ہر ایک انسان کو سمجھنا چاہئے کہ ایسا نہ ہو کہ میں ہی الٹا شکار ( ملفوظات جلد پنجم ص:۱۱) پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔انسان کی کمزوریاں جو ہمیشہ اس کی فطرت کے ساتھ لگی ہوئی ہیں ہمیشہ اس کو تمدن اور تعاون کا محتاج رکھتی ہیں اور یہ حاجت تمدن اور تعاون کی ایک ایسا بد یہی امر ہے کہ جس میں کسی عاقل کو کلام نہیں۔خود ہمارے وجود کی بھی ترکیب ایسی ہے جو تعاون کی ضرورت پر اور بھی ثبوت ہے۔ہمارے ہاتھ اور پاؤں اور کان اور ناک اور آنکھ وغیرہ اعضاء اور ہماری سب اندرونی اور بیرونی طاقتیں ایسی طرز پر واقع ہیں کہ جب تک وہ باہم مل کر ایک دوسرے کی مدد نہ کریں تب تک افعال ہمارے وجود کی عــلــى مـجــرہ صحت ہرگز جاری نہیں ہو سکتے “ مطلب یہ ہے کہ انسانی فطرت ہے اس کے جسم کے خواص یہ ہیں کہ ہر وجود کا حصہ دوسرے سے تعاون کرتا ہے۔اب جس کو آپ کہتے ہیں ایک طرفہ فالج وہ صرف اتنی سی بات ہے کہ جسم کے ایک حصہ نے دوسرے حصہ سے تعاون چھوڑ دیا ہے۔دایاں ہاتھ اُٹھتا ہے تو بایاں نہیں اُٹھتا۔دایاں چہرہ حرکت کرتا ہے بات کرتے وقت تو بایاں نہیں کرتا تو یہ تعاون کی کمی کی ایک بہت عمدہ مثال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پیش فرما رہے ہیں۔ہمارے ہاتھ ، پاؤں اور کان اور ناک اور آنکھ وغیرہ اعضاء ہیں اور ساری اندرونی طاقتیں ہیں جو صحت کو قائم رکھنے کے لئے لازماً ایک دوسرے سے تعاون کرتی ہیں۔اگر یہ تعاون نہ ہو تو انسانیت کی گل ہی معطل پڑی رہتی ہے۔جو کام دو ہاتھ کے ملنے سے ہوتا ہے وہ محض ایک ہی ہاتھ سے انجام نہیں ہوسکتا۔جس راہ کو دو پاؤں مل کر طے کرتے ہیں وہ فقط ایک ہی پاؤں سے طے نہیں ہوسکتا اسی طرح تمام کامیابی ہماری معاشرت اور آخرت کے تعاون پر ہی موقوف ہے۔کیا کوئی اکیلا انسان کسی کام دین یا دنیا کو انجام دے سکتا ہے؟ ہر گز نہیں۔“