اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 607 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 607

حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات پر ہیز کرنا چاہئے۔پھر فرماتے ہیں: ۶۰۷ خطاب ۳۱؍ جولائی ۱۹۹۹ء ”خدا تعالیٰ کا نام ستار ہے ( یعنی پردہ پوشی کرنے والا ) تمہیں چاہئے کہ تَخلَّقُوا بِأَخْلاقِ الله نو (چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے اخلاق میں رنگین ہو اور جیسے وہ ستار ہے ویسے تم بھی ستار بنو ) ہمارا مطلب یہ نہیں یہ کہ عیب کے حامی نہ بنو بلکہ یہ کہ اشاعت اور غیبت نہ کرو۔“ ( ملفوظات جلد چہارم صفحه ۶۱ ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں جہاں ایک ہی مضمون پر تکرار ہے وہاں کوئی نہ کوئی نیا نقطہ بھی ضرور بیان فرما دیا ہے۔اس لئے بظاہر لوگ سمجھتے ہوں گے کہ یہ ایک ہی بات کی تکرار ہے مگر حقیقت میں تکرار نہیں ہے کوئی نہ کوئی نیا نقطہ ایسا موجود ہوتا ہے جس کو پیش کرنے کے لئے وہ عبارت غور سے پڑھنی پڑتی ہے۔فرماتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا کسی سے رشتہ ناطہ نہیں۔اس کے ہاں اس کی بھی کچھ پروا نہیں کہ کوئی سید ہے یا کون ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فاطمہ سے کہا کہ یہ خیال مت کرنا کہ میرا باپ پیغمبر ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر کوئی بھی بیچ نہیں سکتا۔کسی نے پوچھا کیا آپ بھی ؟ فرمایا ہاں میں بھی۔مختصر یہ کہ نجات نہ قوم پر منحصر ہے نہ مال پر بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے۔“ ( ملفوظات جلد چہارم صفحه ۴۹۵ ) اور فضل جو ہے وہ دعا کے نتیجے میں نازل ہوتا ہے اور بعض دفعہ بغیر دعا کے بھی نازل ہوتا ہے یہ جو اپنے بس میں نہیں ہوتا۔پس دعا کے ذریعے کوشش کرتی رہیں اور خدا کرے کہ خدا کا فضل بغیر دعا کے بھی آپ پر نازل ہوتا رہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے غیبت کا حال پوچھا فرمایا کہ : ”کسی سچی بات کا اس کی عدم موجودگی میں اس طرح سے بیان کرنا کہ اگر وہ موجود ہوتو اسے برا لگے غیبت ہے۔“ ( ملفوظات جلد چہارم صفحه ۶۰) غیبت سے مراد یہ نہیں ہے کہ جھوٹی بات گھڑ کر بیان کی جائے بات سچی ہوگی اور اسی سچی بات