اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 606 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 606

حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات خطاب ۳۱ جولائی ۱۹۹۹ء باتیں تو اکثر مرد میں نہیں پائی جاتیں ان کو خیال ہی نہیں آتا کہ کسی نے کیسی گھڑی پہنی ہوئی ہے کون سا زیور پہنا ہوا ہے اس کا واہمہ بھی نہیں آتا تو جن کو چغل خوری کی عادت بھی ہو ان میں یہ بیماری تو بہر حال نہیں ملتی یہ تو عورتوں کی خصوصیت ہے اللہ ان کو اس خصوصیت سے محفوظ رکھے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان ساری باتوں کو ملفوظات میں بیان فرمایا ہے۔فرماتے ہیں: عورتوں میں چند عیب بہت سخت ہیں اور کثرت سے ہیں ایک شیخنی کرنا کہ ہم ایسے ہیں اور ایسے ہیں پھر یہ کہ قوم پر فخر کرنا کہ فلاں تو کمینی ذات کی عورت ہے یا فلاں ہم سے نیچی ذات کی ہے پھر یہ کہ اگر کوئی غریب عورت ان میں بیٹھی ہوئی ہے تو اس سے نفرت کرتی ہیں اور اس کی طرف اشارے شروع کر دیتی ہیں کہ کیسے غلیظ کپڑے پہنے ہیں زیور اس کے پاس کچھ بھی نہیں وغیرہ وغیرہ۔( ملفوظات جلد پنجم صفحه ۲۹ جدید ایڈیشن) پھر فرماتے ہیں: " قرآن کریم کی یہ تعلیم ہر گز نہیں ہے کہ عیب دیکھ کر اسے پھیلاؤ اور دوسروں سے تذکرہ کرتے پھرو بلکہ وہ فرماتا ہے تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ (البلد : ۱۸) کہ وہ صبر اور رحم سے نصیحت کرتے ہیں مرحمہ یہی ہے کہ دوسرے کے عیب دیکھ کر اسے نصیحت کی جاوے اور اس کے لئے دعا بھی کی جاوے دعا میں بڑی تاثیر ہے اور وہ شخص بہت ہی قابل افسوس ہے کہ ایک کے عیب کو بیان تو سو مرتبہ کرتا ہے لیکن دعا ایک مرتبہ بھی نہیں کرتا۔“ سعدی کے ایک شعر کا حوالہ دے کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ تو جان کر پردہ پوشی کرتا ہے مگر ہمسایہ کو علم نہیں ہوتا اور وہ شور کرتا پھرتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد چہارم ص: ۴۰ ۴۱) اب دیکھیں یہ کیسی گہری حکمت کی بات ہے خدا تعالیٰ کو علم ہے کہ گھروں کے اندر کیا ہورہا ہے اور وہ پردہ پوشی فرما رہا ہے اور ہمسایہ جس کو پتہ ہی نہیں کہ دوسرے گھر میں کیا ہو رہا ہے وہ باہر بیٹھا شور مچا رہا ہے کہ اس گھر میں یہ ہوتا ہے اور وہ ہوتا ہے یہ ایک ایسی بد عادت ہے جو ظاہر وباہر ہے اس سے