اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 602
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۶۰۲ خطاب ۳۱ جولائی ۱۹۹۹ء پھر تم ضرور زندگی میں یہ سزا پاؤ گے کہ خدا کی ستاری کا پردہ تم سے اٹھ چکا ہے اور تمہارے عیب پھر لوگوں کو دکھائی دینے لگ جائیں گے جو اس سے پہلے دکھائی نہیں دیا کرتے تھے۔ایک روایت حضرت ابو ہریرہ کی یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بھائی کی آنکھ کا تنکا تو انسان کو نظر آتا ہے لیکن اپنی آنکھ میں پڑا ہوا شہتیر بھول جاتا ہے۔آنکھ میں تو شہتیر نہیں پڑسکتا۔بھائی کی آنکھ کا تنکا نظر آنا اور اپنی آنکھ میں شہتیر پڑنے کا کیا مطلب ہے۔مطلب ہے جتنی برائی بھائی کی دکھائی دے رہی ہے اس کی آنکھ میں اس سے بہت زیادہ برائی تمہاری آنکھ میں مضمر ہے، وہ چھپی ہوئی ہے۔اس برائی کو تم دیکھ نہیں سکتے کیونکہ وہ تمہارے اندر نہاں ہے تو یا درکھو کہ یہ عادت ڈالو اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہا کرو اور جب غیر کی کوئی برائی دکھائی دے تو فورا جس طرح گیند اچھل کر واپس آتا ہے اس طرح تمہاری نظر اچھل کر واپس اپنے نفس کا مطالعہ شروع کر دے اور یہ کھوج لگائے کہ ویسی ہی برائی یا اس سے بہت زیادہ برائی تو میرے دل میں نہیں۔یہ مضمون وہ ہے جس کے متعلق بہادر شاہ ظفر کو ایک بہت عارفانہ کلام کی تو فیق ملی تھی اور وہ یہ ہے نہ تھی حال کی جب ہمیں اپنے خبر رہے دیکھتے اوروں کے عیب و ہنر پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر تو نگاہ میں کوئی بُرا نہ رہا اگر اچھی آنکھ سے دیکھنا ہے تو پہلے اپنی بدیوں کی تلاش کرو۔اتنا گھبرا جاؤ گے کہ اپنی بدیوں کے مقابل پر ساری دنیا اچھی دکھائی دے گی۔یہ عارفانہ نقطہ بھی دراصل حضرت اقدس محمد مصطفی اصلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ہے اور اسی نقطے کو دنیا کے مختلف شعراء اور ادیبوں نے اپنے اپنے رنگ میں پیش کیا ہے۔اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام میں سے کچھ باتیں میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں یہ کلام در اصل حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کی ہی تشریح ہے کوئی نئی چیز نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام پر غور کر کے دیکھیں کچھ بھی نئی چیز نہیں سو فیصد حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام اور عشق میں ڈوب کر آپ نے کہا ہے۔بدی پر غیر کی ہر دم نظر ہے مگر اپنی بدی سے بے خبر ہے