اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 601 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 601

حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۶۰۱ خطاب ۳۱ جولائی ۱۹۹۹ء ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چغل خور جنت میں نہیں جا سکے گا۔اب اس میں بعض دوسری باتیں بھی ضمنا بیان ہوئی ہیں۔بعض حدیثوں سے ذکر ملتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہنم میں عورتوں کو زیادہ دیکھا اب عورتیں بیچاری تو ایسی ہیں جن کے پاؤں تلے جنت بھی ہوتی ہے وہ خود کیسے جہنم میں جائیں گی مگر ایک بیماری ایسی ہے جو اکثر عورتوں کو لاحق ہوتی ہے اور وہ چغل خوری ہے اس لئے اگر آپ چغل خوری سے پناہ مانگتی رہیں گی تو یقینا اللہ تعالیٰ آپ کو ان عورتوں میں داخل نہیں کرے گا جن کو زیادہ تعداد میں جہنم میں دیکھا گیا ہے۔حضرت ابن مسعودؓ بیان کرتے ہیں اور یہ ترمذی سے حدیث لی گئی ہے آپ فرماتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا طعنہ زنی کرنے والا ، دوسرے پر لعنت کرنے والا نخش کلامی کرنے والا ، یا وا گو زبان دراز مومن نہیں ہو سکتا یعنی یہ ساری باتیں وہ ہیں جو ایمان کے منافی ہیں اور سچے مومن کے اندر خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ یہ گندی خصلتیں نہیں ہوا کرتیں۔طعنہ زنی کرنا، دوسروں پر لعنت ڈالنا نخش کلامی کرنا ، یاوا گوئی زبان درازی وغیرہ وغیرہ لعنت تو قرآن کریم نے بھی ڈالی ہوئی ہے اور مباہلے میں بھی ڈالی جاتی ہے مگر وہ لعنت اور رنگ کی لعنت ہے یہاں اس کا ذکر نہیں بات چیت میں، روز مرہ کی باتوں میں یونہی لعنتیں ڈالتے پھرنا یہ وہ عادت ہے جو سچے مومن میں نہیں ہوا کرتی۔حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ممبر پر کھڑے ہو کر با آواز بلند فرمایا کہ اے لوگوں ! تم میں سے بعض بظاہر مسلمان ہیں لیکن ان کے دلوں میں ایمان راسخ نہیں ہوا انہیں میں متنبہ کرتا ہوں کہ وہ مسلمانوں کو طعن و تشنیع کے ذریعے تکلیف نہ دیں اور نہ ان کے عیبوں پر کھوج لگاتے پھریں ورنہ یا درکھیں جو شخص کسی کے عیب کی جستجو میں ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے اندر چھپے عیوب کو لوگوں پر ظاہر کر کے اس کو ذلیل ورسوا کر دیتا ہے۔اب دیکھیں اس میں کتنی بڑی حکمت کی بات آپ کے سامنے پیش کی گئی ہے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے اس کے ذریعے سے آپ کے سارے معاشرے کی اصلاح ہوسکتی ہے۔فرمایا اگر سچا ایمان ہو تو پھر طعن و تشنیع نہ کیا کرو جب تم طعن کرتے ہو تشنیع کرتے ہو، دوسروں کو تکلیف دیتے ہو تو ایمان دل سے اٹھ جاتا ہے اور اس کا دوسرا نتیجہ یہ ہے کہ عیب ڈھونڈتے پھرتے ہو لوگوں کے گویا زندگی کا مزہ ہی یہ رہ گیا ہے کہ لوگوں کے عیب تلاش کرنا۔جب ایسا کرو گے تو اتنا بھی تو خیال کرو کہ تمہارے اندر بھی عیوب ہیں جو خدا کی ستاری کے پردے میں چھپے ہوئے ہیں۔جب تم لوگوں کے عیب نکالو گے تو اللہ یہ پردہ اٹھا لے گا