اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 599 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 599

حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۵۹۹ خطاب ۳۱ جولائی ۱۹۹۹ء انقلاب برپا ہو رہا ہے اور میں امید رکھتا ہوں انشاء اللہ کہ اس کے نتیجے میں باقی فلسطینی سابقہ احمدی خواتین کی بھی اچھی تربیت ہو سکے گی۔امریکہ سے سو اور کینیڈا سے ۸۸ کی تعداد میں خواتین کے اب تک پہنچنے کی اطلاع مل چکی ہے۔اس کے علاوہ ناروے، ہالینڈ، قازقستان، سوئٹزر لینڈ ، سویڈن، کینیا، ہندوستان، جاپان، ماریشس، یوگینڈا، آسٹریلیا، سینیگال، بورکینافاسو، نائیجیریا سعودی عرب، ڈنمارک فرانس بیلجیئم ، پولینڈ، غانا، یواے ای، ہانگ کانگ، اٹلی ، آئر لینڈ، تھائی لینڈ، بوسنیا، تنزانیہ، بنگلہ دیش، گیمبیا، سپین ، یمن ، نیوزی لینڈ ، عمان اور ساؤتھ افریقہ وغیرہ سے مختلف تعداد میں خواتین کو اس جلسے میں شرکت کا موقع مل رہا ہے۔الحمد للہ یہ بہت بڑا ایک نمائندہ وفد ہے جو دنیا بھر کے ممالک سے تشریف لایا ہوا ہے۔جن آیات کی تلاوت کی گئی تھی انہی کے تسلسل میں میں حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض نصائح آپ کے سامنے رکھتا ہوں کیونکہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ مختصر ہوتے ہیں مگر بہت گہرا اثر کرنے والے، ان کی گہرائی میں جتنا بھی ڈوبتے چلے جائیں ان کی کوئی اتھاہ نہیں، کسی جگہ پہنچ کے آپ کہہ نہیں سکتے کہ اس میں عرفان کا کنارہ مل گیا ہے۔یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان ہے جو آپ کے الفاظ سے بھی جلوہ گر ہے۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان بعض اوقات بے خیالی میں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی کوئی بات کہ دیتا ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے بے انتہا درجات بلند کرتا ہے۔بے خیالی میں بھی جو بات نکلتی ہے دراصل اس کا نفسیات سے گہرا تعلق ہے۔سوچے سمجھے منصوبے کے بغیر ہی جب انسان بے خیالی میں کوئی بات کرتا ہے تو غور کر کے دیکھیں اس کا تعلق انسانی نفسیات سے ہے۔دل میں وہ اچھی بات ہوگی تو باہر آئے گی تو اللہ تعالیٰ اس کی قدر فرماتا ہے اور بہت درجات بلند کرتا ہے اور بعض اوقات لا پرواہی سے ایک بات کر بیٹھتا ہے جس کے متعلق اس کے پیچھے ارادہ نہیں ہوتا مگر بے خیالی میں بات کرتا ہے یہاں بھی وہی مصلحت ہے۔حضور ا کرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ نفسیات کا کوئی ماہر نہیں تھا۔پس آپ متنبہ کرتے ہیں کہ تم بے خیالی میں جو باتیں کرتے ہو بسا اوقات اس کی جڑیں دل میں پیوستہ ہوتی ہیں اس وقت اگر خدا تعالیٰ کے متعلق کوئی نا پسندیدہ بات کرو گے تو پھر اللہ تعالیٰ اس کو نوٹ کرے گا اور بعض دفعہ اسی کے نتیجے میں سزادی جائے گی اس لئے خوب اچھی طرح اپنے دل کو ٹول کر دیکھا کرو کہ سب نیکیوں کی جڑ دل ہی میں ہوتی ہے اور